کراچی کی رہائشی عمارت میں سلنڈر دھماکا، ایک بچہ جاں بحق، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد حیدری کے قریب ایک رہائشی عمارت کے فلیٹ میں سلنڈر دھماکے کے بعد آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں ایک بچے کی جان چلی گئی جبکہ حاملہ خاتون سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ریسکیو حکام کے مطابق آگ عمارت کی دسویں منزل پر لگی تھی جس پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ کولنگ کا عمل جاری ہے۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد عمارت میں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ بجھائی اور عمارت میں پھنسے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا۔زخمیوں کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔جاں بحق ہونے والے 15 سالہ بچے کی شناخت برہان ولد عون کے نام سے ہوئی ہے۔ اہل خانہ بچے کی میت کو تدفین کے لیے سخی حسن قبرستان لے گئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں مزید دو افراد کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں ایک 7 سالہ بچہ اور ایک 50 سالہ شخص شامل ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر حتمی تصدیق کا انتظار ہے۔زخمیوں میں فاطمہ زوجہ حنین عمر 30 سال، انسیہ دختر حنین عمر 4 سال، تسنیم زوجہ نامعلوم عمر 70 سال اور حنین ولد فضل عباس عمر 40 سال شامل ہیں۔ریسکیو 1122 کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رہائشی عمارت میں ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ کولنگ کا عمل احتیاطی طور پر جاری ہے تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کا خدشہ نہ رہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا گیس سلنڈر پھٹنے کے باعث ہوا، تاہم واقعے کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور واقعے کی وجوہات کا تعین کر کے آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔