ایران بے نتیجہ مذاکرات میں نہیں الجھے گا، امریکی حملے کا جواب وسیع اور لامحدود ہو گا، دفاعی عہدیدار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
ذریعے کے مطابق امریکا "ایران کی صلاحیت اور جواب دینے کے عزم سے بخوبی آگاہ ہے" اور ڈونلڈ ٹرمپ وقت خرید رہے ہیں تاکہ فوجی اور سیاسی دباؤ بڑھا کر ایران کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کیا جا سکے۔" اسلام ٹائمز۔ ایک ایرانی دفاعی عہدیدار نے ہفتے کے روز روسی نشریاتی ادارےRT کو بتایا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر امریکی دباؤ یا بلیک میلنگ کے آگے نہیں جھکے گا۔ عہدیدار نے خبردار کیا کہ ایران پر کسی بھی امریکی یا اسرائیلی حملے کا جواب "وسیع اور لامحدود" ہو گا۔ ذریعے کے مطابق امریکا "ایران کی صلاحیت اور جواب دینے کے عزم سے بخوبی آگاہ ہے" اور ڈونلڈ ٹرمپ وقت خرید رہے ہیں تاکہ فوجی اور سیاسی دباؤ بڑھا کر ایران کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کیا جا سکے۔" ذریعے نے کہا، "ایران طویل اور بے نتیجہ مذاکراتی عمل میں نہیں الجھے گا۔ ایسے مذاکرات جن میں پابندیاں ہٹنے کا امکان کمزور ہو، ایران کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔" خیال رہے کہ اس ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار رہی، کیونکہ عمان کی ثالثی میں ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں دو ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپس اور اضافی بمبار طیارے تعینات کر دیے ہیں۔ متعدد میڈیا اداروں کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ ایران پر حملوں پر غور کر رہے ہیں۔ ایران نے اس فوجی سرگرمی کے جواب میں ہنگامی لائیو فائر مشقیں کی ہیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ اگر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن اور اس کا خودمختار حق ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعے کے روز MSNBC کو بتایا کہ ایران جلد ایک نیا مسودہ تجویز پیش کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران سفارتی راستہ ترجیح دیتا ہے، تاہم وہ "جنگ کے لیے بھی تیار" ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔