صومالیہ کی پاکستان سے 24 جے ایف 17 طیاروں کی خریداری کیلئے اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
صومالیہ کی پاکستان سے 24 جے ایف 17 طیاروں کی خریداری کیلئے اہم پیشرفت WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) صومالیہ کی پاکستان سے 24 جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری کیلئے مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے کہ 2کھرب 51 ارب روپے کا دفاعی معاہدہ زیر غور ہے۔
’’صومالیہ ٹوڈے‘‘ کے مطابق صومالیہ پاکستان سے جدید لڑاکا طیارے حاصل کرنے کیلئے اعلیٰ سطح مذاکرات میں تیزی لا رہا ہے اور مجوزہ معاہدے کے تحت 24 تک جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری پر غور جاری ہے، جو 1991 میں ریاستی انہدام کے بعد پہلی مرتبہ ملکی فضائی جنگی صلاحیت کی بحالی کی اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
صومالی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات بنیادی طور پر جے ایف 17 کے جدید بلاک تھری ورژن پر مرکوز ہیں اور یہ کثیر مرحلہ دفاعی پیکج تقریباً2 کھرب 51 ارب روپے( 900 ملین ڈالر) مالیت کا بتایا جاتا ہے۔
اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ سرد جنگ کے بعد موغادیشو کی سب سے بڑی اور اہم دفاعی خریداری ہوگی اور اس سے افریقہ خطے کے سکیورٹی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی کا اشارہ ملے گا۔
صومالی میڈیا کے مطابق مذاکرات میں جے ایف 17 کے جدید بلاک تھری ورژن کی خریداری کے علاوہ پائلٹ تربیت، ہتھیاروں کے انضمام اور لاجسٹکس پیکج بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ سعودیہ اور ترکیہ معاہدے کے ممکنہ مالی معاونین میں شامل ہیں جبکہ پاکستان پہلے میانمار، نائجیریا اور آذربائیجان کو جے ایف 17 فروخت کر چکا ہے، بنگلہ دیش اور عراق بھی جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسعودی عرب کا 299واں یومِ تاسیس: مملکت بھر میں شاندار تقریبات، پاکستانی کمیونٹی کی بھرپور شرکت سعودی عرب کا 299واں یومِ تاسیس: مملکت بھر میں شاندار تقریبات، پاکستانی کمیونٹی کی بھرپور شرکت عالمی یوم اسکاوٹس کے موقع پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا پیغام اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا معروف شاعر سید سلمان گیلانی کے انتقال پر اظہارِ تعزیت سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ٹرمپ کا بڑا اعلان، عالمی ٹیرف 15 فیصد کر دیا پاکستان سمیت 14 اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کی مذمت کراچی؛ گیس سلنڈر دھماکے سے رہائشی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی، ایک فرد جاں بحقCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: طیاروں کی خریداری پاکستان سے جے ایف 17
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔