گندم کے وافر ذخائر موجود، قلت کا خطرہ نہیں، رانا تنویر حسین
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-08-23
اسلام آباد(صباح نیوز)وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت نیشنل ویٹ اوور سائٹ کمیٹی کا چھٹا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور آئندہ فصل کی کٹائی کے سیزن سے قبل خریداری کی تیاریوں، ذخائر کی صورتحال اور رسد کے انتظام سے متعلق حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ نئی فصل کی آمد تک قومی ضروریات پوری کرنے کیلیے تمام صوبوں میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ وفاقی حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں گندم کی قلت کا کوئی خطرہ نہیں اور منڈیوں میں بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران حکومت خیبر پختونخوا نے کارکردگی اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگی بہتر بنانے کیلیے گندم خریداری کا ہائبرڈ ماڈل اختیار کیا، جس میں 75 فیصد سرکاری اور 25 فیصد نجی شعبے کی شمولیت شامل ہے۔ حکومت سندھ نے کمیٹی کو بتایا کہ گندم کی خریداری سرکاری شعبے کے ذریعے کی جائے گی تاکہ رسد کے استحکام اور قیمتوں کے مؤثر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ گندم کی علامتی خریداری قیمت 40 کلوگرام کیلیے 3500 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ صوبوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ خریداری آپریشنز کے ہموار نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ موجودہ خریداری فریم ورک ایک سال تک نافذ العمل رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔