حکومت 2026-2030 کے لیے جامع گندم کی پالیسی پر کام کر رہی ہے: رانا تنویر حسین
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اسلام آباد — وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت 2026 تا 2030 کے دوران ملک میں قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے جامع اور طویل مدتی گندم کی پالیسی تیار کر رہی ہے، جو جدید اصلاحات کے ذریعے شعبہ خوراک کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے گی۔
یہ بات انہوں نے آج اسلام آباد میں قومی گندم نگرانی کمیٹی کے چھٹے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں ملک بھر میں گندم کی خریداری کے انتظامات، اسٹاک کی دستیابی اور قیمتوں کے استحکام کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر نے کہا کہ آئندہ پالیسی میں ڈیجیٹل ٹریس ایبلیٹی کے نظام، سپلائی چین کی بہتر نگرانی، شفافیت میں اضافہ اور قیمتوں کے استحکام پر خاص توجہ دی جائے گی، تاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے تمام صوبوں کو ہدایت دی کہ وہ مارکیٹ کی سخت نگرانی کریں اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں آٹے کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکنے کے لیے موثر انتظامی اقدامات کریں۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام صوبوں میں موجودہ وقت میں گندم کے مناسب اسٹاک موجود ہیں جو نئی فصل کی آمد تک قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ گندم کی اشاریہ خریداری قیمت فی 40 کلوگرام 3500 روپے مقرر کر دی گئی ہے اور صوبوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ خریداری کے عمل کو بلا رکاوٹ انجام دینے کو یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل گندم کی کے لیے
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔