اسلام آباد — وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت 2026 تا 2030 کے دوران ملک میں قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے جامع اور طویل مدتی گندم کی پالیسی تیار کر رہی ہے، جو جدید اصلاحات کے ذریعے شعبہ خوراک کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے گی۔

یہ بات انہوں نے آج اسلام آباد میں قومی گندم نگرانی کمیٹی کے چھٹے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں ملک بھر میں گندم کی خریداری کے انتظامات، اسٹاک کی دستیابی اور قیمتوں کے استحکام کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر نے کہا کہ آئندہ پالیسی میں ڈیجیٹل ٹریس ایبلیٹی کے نظام، سپلائی چین کی بہتر نگرانی، شفافیت میں اضافہ اور قیمتوں کے استحکام پر خاص توجہ دی جائے گی، تاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے تمام صوبوں کو ہدایت دی کہ وہ مارکیٹ کی سخت نگرانی کریں اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں آٹے کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکنے کے لیے موثر انتظامی اقدامات کریں۔

اجلاس کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام صوبوں میں موجودہ وقت میں گندم کے مناسب اسٹاک موجود ہیں جو نئی فصل کی آمد تک قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔

کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ گندم کی اشاریہ خریداری قیمت فی 40 کلوگرام 3500 روپے مقرر کر دی گئی ہے اور صوبوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ خریداری کے عمل کو بلا رکاوٹ انجام دینے کو یقینی بنائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل گندم کی کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن