ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تہران کو اس کے جوہری پروگرام پر معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے محدود حملوں پر غور کر رہے ہیں۔

ہفتے کے روز ایرانی پیرا اولمپکس ٹیم کے ارکان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ان مشکلات میں سے کسی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ

’عالمی طاقتیں بزدلی کے ساتھ ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں، لیکن جس طرح آپ مشکلات کے سامنے نہیں جھکے، ہم بھی ان مسائل کے آگے نہیں جھکیں گے۔‘

یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب خلیج میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکا نے اپنے فوجی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہوئے 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور درجنوں جنگی طیارے خطے میں تعینات کر دیے ہیں۔

Pezeshkian says Iran will not bow to pressure amid US nuclear talks https://t.

co/C7X4jVSaFF https://t.co/C7X4jVSaFF

— Reuters (@Reuters) February 21, 2026

ایران اور امریکا نے رواں ماہ کے اوائل میں عمان میں بالواسطہ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے اور گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں دوسرا دور بھی ہوا۔

اگرچہ دونوں ممالک نے مذاکرات کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا، تاہم کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا کہ سفارتی حل ہماری پہنچ میں ہے اور ایران اگلے 2 سے 3 دن میں معاہدے کا مسودہ حتمی شکل دے کر واشنگٹن کو بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دو راہے پر کھڑے ممالک

میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک ایک بار پھر اہم موڑ پر کھڑے ہیں اور تہران کے شہری سفارتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تہران میں ایک خاتون کا کہنا تھا کہ جنگ کے بارے میں کون فکر مند نہیں ہوگا۔ ’اگر ہم اپنے لیے فکر نہیں کرتے تو اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ضرور فکر کرتے ہیں۔‘

ایک تاجر کا مؤقف تھا کہ فوجی تصادم آخرکار ناگزیر ہو سکتا ہے کیونکہ امریکا ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے ایرانی ریاست قبول نہیں کرے گی۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا:1953 کی بغاوت سے 2025 کے حملوں تک

’اگر ایسا ہوا تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے، کاروبار پہلے ہی سست ہے۔‘

دوسری جانب ایک شہری نے زیادہ پرامید مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ امریکا جانتا ہے کہ وہ ایران کو زیر نہیں کر سکتا۔ اس نے افغانستان، عراق یا ویتنام میں حقیقی فتح حاصل نہیں کی۔

’آخرکار اسے ایران کے سامنے جھکنا پڑے گا، لوگوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔‘

ماضی کی کشیدگی اور فوجی تیاری

گزشتہ سال بھی ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات ہوئے تھے، تاہم جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تو یہ عمل منقطع ہو گیا۔

بعد ازاں امریکا نے فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری میں حصہ لیا۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا،  آیت اللہ خامنائی

جنوری میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف ایرانی کریک ڈاؤن کے بعد ٹرمپ نے نئی فوجی دھمکیاں جاری کیں۔

تہران نے جواباً خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور خلیج کی تیل برآمدات کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی۔

2003 کے بعد سب سے بڑی فضائی طاقت

امریکی میڈیا کے مطابق خطے میں جمع کی جانے والی امریکی فضائی طاقت 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سب سے بڑی ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں 120 سے زائد طیارے تعینات کیے ہیں، جبکہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یوایس ایس جیرالڈ فورڈ  پہلے سے بحیرۂ عرب میں موجود یوایس ایس ابراہام لنکن کے ساتھ شامل ہونے کے لیے روانہ ہے۔

ایران نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں خبردار کیا کہ اس فوجی اجتماع کو ’محض بیان بازی‘ نہ سمجھا جائے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور

خط میں کہا گیا کہ ایران کشیدگی یا جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی جنگ کا آغاز کرے گا، تاہم کسی بھی امریکی جارحیت کا فیصلہ کن اور متناسب جواب دیا جائے گا۔

جمعرات کو صدر ٹرمپ نے اپنے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں کہا تھا کہ اگر کوئی بامعنی معاہدہ نہ ہوا تو بری چیزیں ہوں گی۔

بعد ازاں ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 دن ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ

جمعہ کو ایک صحافی کے سوال پر کہ آیا مذاکرات کے دوران امریکا محدود فوجی کارروائی کر سکتا ہے، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اس پر غور کر رہے ہیں۔

بعد میں انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو منصفانہ معاہدہ کرنا چاہیے۔

علاقائی جنگ کے خدشات کے پیش نظر سوئیڈن، سربیا، پولینڈ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے ایران میں مقیم اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آبنائے ہرمز اصفہان افغانستان امریکا ایران تہران جوہری پروگرام جوہری مذاکرات ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی حل سوئٹزرلینڈ عباس عراقچی عراق عمان کریک ڈاؤن مذاکرات مسعود پزشکیان ویتنام

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اصفہان افغانستان امریکا ایران تہران جوہری پروگرام جوہری مذاکرات ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی حل سوئٹزرلینڈ عباس عراقچی کریک ڈاؤن مذاکرات مسعود پزشکیان ویتنام ایران امریکا مزید پڑھیں امریکا نے کہ ایران نے کہا تھا کہ کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان