ملک میں رجسٹرڈ آبادی کتنی ہے؟ نادرا نے تفصیلات پبلک کردیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک میں رجسٹرڈ آبادی کی تفصیلات جاری کر دیں۔
روزنامہ جنگ کے مطابق نادرا نے اپنی سالانہ رپورٹ وزارت داخلہ میں جمع کروا دی ہے اور ترجمان نادرا نے ایک سالہ کارکردگی کا ڈیٹا ویڈیو بیان کی صورت میں جاری کیا۔
نادرا کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ شہریوں کی تعداد 22 کروڑ 70 لاکھ ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ یونین کونسلز میں 3 کروڑ 19 لاکھ بچوں کی پیدائش کا اندراج ہوا ہے، لیکن یہ بچے ابھی نادرا سے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔
حکومت سے کوتاہیاں ہوئی ہوں گی مگر نیت بالکل ٹھیک ہے: شرجیل میمن
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی 97 فیصد آبادی سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہے اور رجسٹرڈ افراد میں 48 فیصد خواتین اور 52 فیصد مرد شامل ہیں۔
نادرا کے بائیو میٹرک ڈیٹا کے مطابق 17 کروڑ شہریوں کے چہروں کی شناخت موجود ہے، ڈیٹا بیس میں 1 ارب 68 کروڑ فنگر پرنٹس اور 70 لاکھ افراد کی آنکھوں کا ڈیٹا موجود ہے۔
رجسٹریشن میں مجموعی طور پر 11 فیصد اضافہ ہوا ہے، بچوں کی رجسٹریشن میں 18 فیصد جبکہ خواتین کی رجسٹریشن میں 8 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ ملک بھر میں نادرا کے 938 رجسٹریشن سینٹرز فعال ہیں اور 2025ء میں 75 نئے رجسٹریشن سینٹرز اور 138 نئے کاؤنٹرز قائم کیے گئے۔
افغانستان، پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کی تدفین کا عمل جاری
نادرا نے سمندر پار پاکستانیوں کی رجسٹریشن اور سہولت کو بھی بڑھایا ہے اور پاک آئی ڈی ایپلیکیشن نے نادرا کی 15 فیصد ذمے داری سنبھال لی ہے۔
ترجمان کے مطابق پاک آئی ڈی ایپلیکیشن کی ڈاؤن لوڈز کی تعداد 1 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔