3 کروڑ سے زائد نئی پیدائشوں کا تاحال نادرا میں اندراج نہ ہوسکا، کارکردگی رپورٹ میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
ملک بھر میں سال 2025 کے دوران یونین کونسل سطح پر رجسٹر ہونے والی 3 کروڑ 19 لاکھ پیدائشوں کا ریکارڈ تاحال نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مرکزی ڈیٹا بیس میں اپ لوڈ نہیں کیا جا سکا۔ یہ انکشاف نادرا کی تازہ کارکردگی رپورٹ میں کیا گیا ہے جو حال ہی میں وزارتِ داخلہ کو پیش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق نادرا کے مرکزی رجسٹر میں اس وقت 22 کروڑ 70 لاکھ افراد کا اندراج موجود ہے، جو ملک کی تقریباً 97 فیصد آبادی کا احاطہ کرتا ہے۔ رجسٹرڈ افراد میں 52 فیصد مرد اور 48 فیصد خواتین شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: نادرا قوانین میں انقلابی تبدیلی، بینکوں اور اداروں میں بائیومیٹرک مسائل کا حل تلاش کرلیا گیا
نادرا کے بائیومیٹرک ذخیرے میں 17 کروڑ افراد کے چہرے کا ڈیٹا، 70 لاکھ کے آئرس اسکین اور ایک ارب 68 کروڑ سے زائد فنگر پرنٹس محفوظ ہیں۔ صرف 2025 کے دوران 44 کروڑ 50 لاکھ بائیومیٹرک تصدیقات کی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی قومی رجسٹریشن میں 4 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، 18 سال سے کم عمر بچوں کی رجسٹریشن میں 11 فیصد، میعاد ختم ہونے والے شناختی کارڈز کی تجدید میں 24 فیصد جبکہ اموات کے بعد منسوخیوں میں 900 فیصد اضافہ ہوا۔ خواتین کی رجسٹریشن میں بھی 8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
یہ بھی پڑھیے: موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافہ ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
سال کے اختتام تک ملک بھر میں 938 رجسٹریشن مراکز فعال تھے۔ 75 نئے مراکز اور 138 نئے کاؤنٹرز قائم کیے گئے جبکہ موجودہ دفاتر میں 126 اضافی کاؤنٹرز کا اضافہ کیا گیا۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے بھی 6 نئے کاؤنٹرز قائم کیے گئے۔
ڈیجیٹل سہولت کے طور پر ’پاک آئیڈینٹیٹی‘ موبائل ایپ نے مجموعی کام کا 15 فیصد سنبھالا، جسے ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ بعض علاقوں میں خواتین اور کم عمر بچوں کی رجسٹریشن میں اب بھی خلا موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبادی میں اضافہ پیدائش نادرا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آبادی میں اضافہ پیدائش رپورٹ میں کیا گیا
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔