سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف ردعمل، صدر ٹرمپ نے انٹرنیشنل ٹیرف 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ میں بڑے نقصان کے ایک دن بعد عالمی تجارتی ٹیرف 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کے پچھلے محصولات کے منصوبے کو عدالت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد آیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی مکمل اور تفصیلی جائزے کے بعد وہ عالمی محصولات کو قانونی حد تک بڑھا رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام امریکا کو عظیم بنانے کے پروگرام کا حصہ ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ
یاد رہے کہ جمعے کو سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی وسیع تجارتی محصولات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے ایمرجنسی قانون (IEEPA) کا غلط استعمال کیا۔ عدالت کے مطابق یہ قانون قومی ہنگامی حالات کے لیے ہے، لیکن صدر نے اسے عالمی تجارتی محصولات کے لیے استعمال کیا، جو اختیارات سے باہر تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے یہ ٹیرف بین الاقوامی ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت عائد کیے تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایمرجنسی پاورز کے ذریعے عالمی سطح پر محصولات عائد کرنا صدر کے اختیار سے تجاوز تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں نئی قانونی حدود میں رہتے ہوئے محصولات کے نئے قواعد جاری کیے جائیں گے تاکہ امریکا کی تجارتی پوزیشن مضبوط رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔