اے آئی سمٹ سبکی میں تبدیل، شائننگ انڈیا کا بیانیہ احتجاج کی نذر
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمٹ کا انعقاد بھارت کے لیے ہزمیت کا باعث بن گیا۔
اے آئی سمٹ کی بدانتظامی اور تنازعات نے بھارت کی ترقی اور عالمی ٹیکنالوجی کے نام نہاد بیانیے کا پول کھول دیا۔ بل گیٹس کےخطاب کی منسوخی،چینی روبوٹ کو مقامی ایجاد قرار دینے کا جھوٹا دعویٰ اور یوتھ کانگریس کے احتجاج نے سمٹ کو مزید متنازعہ بنا دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین یوتھ کانگرس کے کارکنان نے سمٹ کے دوران اپنی قمیضیں اتار کر حکومت مخالف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مبینہ تجارتی معاہدے میں قومی مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
انڈین یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو نے کہا کہ وزیراعظم مودی کمپرومائزڈ ہیں اور نوجوانوں کا غصہ محض سیاسی نہیں بلکہ بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والی بھارتی ڈیل کا فائدہ صرف امریکا کو ہوگا جبکہ بھارتی کسانوں اور عام شہریوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ مودی ممکنہ طور پر ایپسٹین فائل میں نام آنے یا اڈانی کو بچانے کے لیے فیصلے کر رہا ہے، جس کی قیمت ملک کے نوجوان ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی عزت احتجاج سے نہیں بلکہ مودی کے عالمی مجرم کے مشورے سے اسرائیل میں ناچنے سے خراب ہوئی۔
ماہرین کے مطابق عالمی ٹیکنالوجی سمٹ کے دوران حکومتی پالیسیوں کے خلاف اس شدت کا احتجاج سیاست نہیں بلکہ مودی کی پالیسی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم