امریکا، ایران کشید گی اور مذاکرات
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں سفارت کاری اور جنگی تیاری ایک ساتھ چل رہی ہیں۔ جنیوا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات، ایک طرف امید کی ہلکی سی کرن دکھاتے ہیں تو دوسری طرف امریکی بحری بیڑوں کی نقل و حرکت اور دھمکی آمیز بیانات خطے پر منڈلاتے طوفان کی خبر دیتے ہیں۔ اس پوری صورت حال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ نہیں بلکہ امریکا۔ اسرائیل گٹھ جوڑ، ایران کی انقلابی شناخت اور مغربی دباؤ کے آگے نہ جھکنے کی پالیسی کے درمیان ایک طویل نظریاتی اور اسٹرٹیجک کشمکش ہے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والی ایرانی ریاست نے خود کو محض ایک قومی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک نظریاتی، انقلابی اور اسلامی تشخص کے حامل نظام کے طور پر پیش کیا۔ اس تشخص کا مرکزی نکتہ ’’استکبارِ عالم‘‘ کے خلاف مزاحمت اور خود مختاری پر اصرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں امریکا کو صرف ایک عالمی طاقت نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی علامت سمجھا جاتا ہے جو خطے میں اسرائیل کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کا باہمی تعلق کوئی وقتی اتحاد نہیں بلکہ ایک گہری اسٹرٹیجک شراکت داری ہے۔ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے قابل ِ اعتماد اتحادی سمجھا جاتا ہے، اور ایران کو اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا ہے۔ ایران کی جانب سے فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی حمایت، اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان اور خطے میں اسرائیلی پالیسیوں پر کھلی تنقید، اس کشیدگی کو مزید گہرا کرتی ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں ایران کا جوہری پروگرام مغرب کے لیے محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اسٹرٹیجک چیلنج بن جاتا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیاں اور حکومت کی تبدیلی سے متعلق بیانات اسی پالیسی کا تسلسل ہیں جس کا آغاز انہوں نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں کیا تھا جب امریکا نے Joint Comprehensive Plan of Action سے یکطرفہ طور پر علٰیحدگی اختیار کی تھی۔ یہ معاہدہ، جو اس وقت کے امریکی صدر باراک اوبامہ کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا تھا، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی فراہم کرتا تھا لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اسے ناکافی قرار دے کر نہ صرف ختم کیا بلکہ ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی حکمت عملی بھی اختیار کی۔
ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیانات اس تناظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکا اسلامی جمہوریہ کو تباہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔ ان کا یہ موقف صرف سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک نظریاتی اعلان ہے کہ ایران اپنی انقلابی شناخت، خود مختاری اور جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ خامنہ ای کا یہ جملہ کہ امریکی طیارہ بردار جہاز خطرناک ضرور ہے مگر اسے سمندر کی تہہ میں غرق کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے دراصل طاقت کے توازن کا پیغام ہے۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں طیارہ بردار جہازوں کی تعیناتی ایک واضح عسکری دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہ اقدامات بظاہر ایران کو مذاکرات کی میز پر لچک دکھانے پر مجبور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں لیکن ان کا دوسرا پہلو اسرائیل کو یقین دہانی کرانا بھی ہے کہ واشنگٹن اس کے سیکورٹی خدشات کے ساتھ کھڑا ہے۔
ایران کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں اور اگر عالمی برادری کو یقین دہانی درکار ہے تو وہ تصدیقی اقدامات کے لیے تیار ہے۔ تاہم ایران یورینیم افزودگی کو صفر پر لانے سے انکار کرتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک یہ اس کے قومی وقار اور سائنسی خود مختاری کا مسئلہ ہے۔ ایرانی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ جوہری پروگرام کو میزائل پروگرام یا خطے میں اس کی پالیسیوں سے جوڑنا ناقابل ِ قبول ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں امریکا، اسرائیل گٹھ جوڑ اور ایران کے درمیان بنیادی تصادم نمایاں ہوتا ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران نہ صرف جوہری سرگرمیوں کو محدود کرے بلکہ خطے میں اپنی عسکری اور نظریاتی رسائی بھی کم کرے۔ اسرائیل کے لیے ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت اور حزب اللہ، حماس یا دیگر گروہوں سے روابط ایک براہِ راست خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ چنانچہ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ کسی بھی نئے معاہدے میں ان تمام پہلوؤں کو شامل کیا جائے۔
جنیوا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں اگرچہ دونوں فریقوں نے محتاط خوش بینی کا اظہار کیا ہے لیکن زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے یہ کہنا کہ ایران ابھی تک کچھ ’’ریڈ لائنز‘‘ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، اس بات کا اشارہ ہے کہ اصل اختلافات جوں کے توں موجود ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ بنیادی اصولوں پر مفاہمت طے پا گئی ہے اور ممکنہ معاہدے کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس تضاد میں ہی اصل کہانی پوشیدہ ہے: دونوں فریق وقتی طور پر کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں مگر اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ ایران کے لیے امریکا کے آگے جھکنا محض ایک سفارتی فیصلہ نہیں بلکہ اس کے انقلابی تشخص کی نفی ہوگا۔ 47 برسوں سے قائم بیانیہ یہی ہے کہ ایران بیرونی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ اسی بیانیے نے ایرانی قوم میں ایک مزاحمتی نفسیات پیدا کی ہے۔ پابندیوں کے باوجود خود انحصاری، دفاعی صلاحیت میں اضافہ، اور خطے میں اثرو رسوخ کی حکمت عملی اسی سوچ کا تسلسل ہے۔ دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے لیے ایران کا یہ رویہ خطے میں طاقت کے توازن کو چیلنج کرتا ہے۔ اگر ایران ایک مضبوط، خود مختار اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت کرنے والی ریاست کے طور پر ابھرتا ہے تو یہ اسرائیل کی برتری اور امریکا کی خطے میں بالادستی کے لیے سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔ تاہم جنگ کا راستہ کسی کے مفاد میں نہیں۔ آبنائے ہرمز میں ایرانی مشقیں اور امریکی بیڑوں کی موجودگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ ایک چھوٹی سی غلط فہمی بھی بڑے تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔
موجودہ منظرنامے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکا ایران کی انقلابی شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے ایک حقیقت پسندانہ معاہدہ کرنے کو تیار ہے، یا پھر وہ اسرائیل کے سیکورٹی خدشات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے دباؤ کی پالیسی جاری رکھے گا؟ اسی طرح ایران کے سامنے بھی یہ چیلنج ہے کہ وہ اپنی نظریاتی اساس کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی نظام میں کس حد تک لچک دکھا سکتا ہے۔ اگر تاریخ کا سبق دیکھا جائے تو طاقت کے ذریعے ایران کو جھکانے کی کوششیں کبھی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوئیں۔ پابندیاں، دھمکیاں اور فوجی دباؤ وقتی اثر ضرور ڈالتے ہیں، مگر ایران کا ریاستی ڈھانچہ اور انقلابی بیانیہ اسے ایک خاص حد تک مزاحمت کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خامنہ ای کا اعتماد اور ٹرمپ کی دھمکیاں بیک وقت سنائی دیتی ہیں۔ لہٰذا سوال یہ نہیں کہ کون جھکے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا دونوں فریق ایسے توازن تک پہنچ سکتے ہیں جہاں خطہ ایک اور تباہ کن جنگ سے محفوظ رہ سکے۔ یہی آنے والے مہینوں کی سفارت کاری کا اصل امتحان ہوگا۔
ڈاکٹر عالمگیر آفریدی
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جوہری پروگرام نہیں بلکہ ایک ہے کہ ایران اسرائیل کے ایران کے ایران کا ایران کی کرتا ہے کے لیے کہ ایک
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔