data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پارٹی قیادت کو بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کی پیش کش کی گئی تھی، جو لوگ دباؤ میں آ کر ملاقات کے لیے نہ گئے انہوں نے غلطی کی، اگر انہیں موقع ملتا تو وہ ضرور جا کر بانی سے ملاقات کرتے اور ان کی صحت کے بارے میں خود تسلی کرتے۔

نجی ٹی وی پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ پارٹی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے کیونکہ وہ ایک بہن ہیں اور ان کے سخت الفاظ بھی برداشت کرنے چاہئیں، سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو احتیاط سے چلنا ہوگا تاکہ خاندان کی دل آزاری بھی نہ ہو اور رہائی کی کوششیں بھی جاری رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے صحت، بچوں سے ملاقات اور کتابوں کی فراہمی سمیت تین اہم معاملات پر واضح ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، اس لیے حکومت کو کم از کم ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت ضرور دینی چاہیے، معروف معالج فیصل سلطان کا عمران خان کے ساتھ طویل پیشہ ورانہ تعلق رہا ہے اور ڈاکٹر کا کردار سیاسی نہیں ہوتا۔

علی محمد خان نے مزید کہا کہ اگر کوئی رہنما دباؤ کی وجہ سے ملاقات کے لیے نہ گیا تو یہ سیاسی طور پر درست فیصلہ نہیں تھا،اگر وہ خود اس صورتحال میں ہوتے تو وہ بانی سے مل کر ان کی خیریت دریافت کرتے اور قوم کو ان کی صحت کے بارے میں آگاہ کرتے۔

پارٹی کے اندر جاری حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی جانب سے فورس بنانے کی تجویز نیک نیتی پر مبنی تھی، تاہم انہوں نے پارلیمنٹ میں مشورہ دیا کہ لفظ  فورس کے بجائے  رضاکار استعمال کیا جائے تاکہ کسی کو تنقید کا موقع نہ ملے،سیاسی جدوجہد پرامن ہونی چاہیے اور مقصد پر توجہ رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو اتحاد، برداشت اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ سیاسی اہداف حاصل کیے جا سکیں اور قیادت کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کا ازالہ ہو سکے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: علی محمد خان سے ملاقات انہوں نے

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد