بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ ایک مشکل امتحان ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ اگر مودی اپنی نازک شبیہ کو بچانے کیلئے اتنے "بے تاب" نہ ہوتے اور صرف 18 دن اور انتظار کرتے تو بھارتی کسانوں کو انکی تکلیف اور پریشانی سے بچایا جاسکتا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کانگریس پارٹی نے وزیراعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ ایک مشکل امتحان بن گیا ہے جس کا سامنا ملک کو کرنا پڑ رہا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ اگر وزیراعظم مودی اپنی نازک شبیہ کو بچانے کے لئے اتنے "بے تاب" نہ ہوتے اور صرف 18 دن اور انتظار کرتے تو بھارتی کسانوں کو ان کی تکلیف اور پریشانی سے بچایا جاسکتا تھا اور بھارت کی خودمختاری کی حفاظت کی جاسکتی تھی۔ جے رام رمیش نے سنیچر کے روز ایک ایکس پوسٹ میں کہا کہ گذشتہ روز امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی ٹیرف پالیسی کو ختم کرنے کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ مودی ان کے بہت اچھے دوست ہیں اور ٹرمپ نے 10 مئی 25 کو بھارتی برآمدات پر ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دے کر ذاتی طور پر آپریشن سندور رکوایا تھا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ 2 فروری 2026ء کو صدر ٹرمپ نے سب سے پہلے اعلان کیا کہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور کہا کہ دوستی اور وزیر اعظم مودی کے احترام کی وجہ سے اور ان کی درخواست پر ہم نے امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ آخر ایسی کیا مجبور تھی کہ وزیر اعظم مودی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ دو فروری 2026ء کی رات صدر ٹرمپ ہی بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کا اعلان کریں۔ اس دوپہر پارلیمنٹ میں ایسا کیا ہوا تھا جس نے پی ایم مودی کو اتنا پریشان کر دیا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں اپنے "اچھے دوست" سے رابطہ کر کے دھیان بھٹکانے والی صورت حال پیدا کی۔
جے رام رمیش نے کہا کہ اگر پی ایم مودی اپنی نازک شبیہ کو بچانے کے لئے اتنے بے چین نہ ہوتے اور صرف 18 دن انتظار کرتے تو بھارتی کسان اس مصیبت اور بحران سے بچ سکتے تھے اور بھارت کی خودمختاری محفوظ رہتی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ وزیر اعظم کی بے صبری اور ہتھیار ڈالنے کی وجہ سے ہی کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ بھارت کے ساتھ معاہدہ جاری ہے۔
امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف کو ختم کرنے کے بعد ٹرمپ نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس کی ایک پریس کانفرنس میں کہا "مجھے لگتا ہے کہ بھارت کے ساتھ میرے تعلقات بہت اچھے ہیں اور ہم بھارت کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں۔ بھارت روس سے باہر نکل گیا، بھارت اپنا تیل روس سے لے رہا تھا، وہ میرے کہنے پر بہت پیچھے ہٹ گئے، کیونکہ ہم اس خوفناک جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر مہینے 25000 لوگ مارے جا رہے ہیں"۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارت امریکہ تجارتی تجارتی معاہدے بھارت کے ساتھ کہ بھارت کیا کہ کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
روم (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ ہوگیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لئے ویزا ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کی تقریب اٹلی وزارت خارجہ روم میں منعقد ہوئی۔ معاہدہ سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی اور روابط مضبوط کرے گا۔
مزید :