اسلام آباد ہائی کورٹ کا اقدام قتل کیس میں بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ کا اقدام قتل کیس میں بڑا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس) ہائی کورٹ نے اقدام قتل کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم فواد عرف مانی کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایک بار ٹریگر دبا دیا جائے اور نشانہ لگ جائے تو ملزم کا ارادہ واضح ہو جاتا ہے ۔ ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا۔
عدالت نے دستیاب شواہد اور جرم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم ضمانت کی رعایت کا حقدار نہیں ہے۔
تحریری عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم پر مدعی کی اہلیہ اور بیٹے پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کرنے کا الزام ہے۔ ریکارڈ کے مطابق مدعیہ شبانہ کے بیٹے کو اس واقعے کے دوران 3 گولیاں لگیں۔ دورانِ تفتیش ملزم کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کر لیا گیا۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ زخمیوں کو پہلے اسپتال منتقل کرنا ایک قدرتی عمل ہے ۔ چند گھنٹوں کی تاخیر سے کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ دفعہ 324 پی پی سی میں جسم کے نازک یا غیر نازک حصے کی کوئی تفریق نہیں ہے ۔گولی کا رخ حملہ آور کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
پولیس فائل کے مطابق ملزم فواد عرف مانی کے خلاف پہلے بھی 4 دیگر مقدمات درج ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ملزم کو جرم سے جوڑنے کے لیے کافی ہے ۔ لہٰذا وہ ضمانت کا حقدار نہیں۔
عدالت نے ہدایت جاری کی کہ یہ مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں ۔ ٹرائل کورٹ میرٹ پر فیصلہ کرتے وقت ان سے متاثر نہ ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر پیغام چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر پیغام لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے، سینئر حزب اللہ رہنما سمیت 12 افراد جاں بحق نواز شریف کی طرح عمران خان کی سزاؤں کا فیصلہ بھی عدالتوں میں ہوگا: رانا ثناءاللہ ایران پر حملہ؟ دنیا کا سب سے بڑا امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ بہت قریب پہنچ گیا خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی، پورے خطے پر قبضہ حق ہے: امریکی سفیر امریکی سپریم کورٹ کے ایکشن پر ٹرمپ کا ری ایکشن، تمام ممالک پر 10 فیصد گلوبل ٹیرف عائدCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔