Daily Sub News:
2026-07-24@00:44:32 GMT

اسلام آباد ہائی کورٹ کا اقدام قتل کیس میں بڑا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

اسلام آباد ہائی کورٹ کا اقدام قتل کیس میں بڑا فیصلہ

اسلام آباد ہائی کورٹ کا اقدام قتل کیس میں بڑا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد:(آئی پی ایس) ہائی کورٹ نے اقدام قتل کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم فواد عرف مانی کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایک بار ٹریگر دبا دیا جائے اور نشانہ لگ جائے تو ملزم کا ارادہ واضح ہو جاتا ہے ۔ ملزم اپنی ناقص نشانے بازی کو ضمانت کے لیے رعایت کی بنیاد نہیں بنا سکتا۔

عدالت نے دستیاب شواہد اور جرم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم ضمانت کی رعایت کا حقدار نہیں ہے۔

تحریری عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم پر مدعی کی اہلیہ اور بیٹے پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کرنے کا الزام ہے۔ ریکارڈ کے مطابق مدعیہ شبانہ کے بیٹے کو اس واقعے کے دوران 3 گولیاں لگیں۔ دورانِ تفتیش ملزم کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کر لیا گیا۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ زخمیوں کو پہلے اسپتال منتقل کرنا ایک قدرتی عمل ہے ۔ چند گھنٹوں کی تاخیر سے کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ دفعہ 324 پی پی سی میں جسم کے نازک یا غیر نازک حصے کی کوئی تفریق نہیں ہے ۔گولی کا رخ حملہ آور کے اختیار میں نہیں ہوتا۔

پولیس فائل کے مطابق ملزم فواد عرف مانی کے خلاف پہلے بھی 4 دیگر مقدمات درج ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود مواد ملزم کو جرم سے جوڑنے کے لیے کافی ہے ۔ لہٰذا وہ ضمانت کا حقدار نہیں۔

عدالت نے ہدایت جاری کی کہ یہ مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں ۔ ٹرائل کورٹ میرٹ پر فیصلہ کرتے وقت ان سے متاثر نہ ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر پیغام چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر پیغام لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے، سینئر حزب اللہ رہنما سمیت 12 افراد جاں بحق نواز شریف کی طرح عمران خان کی سزاؤں کا فیصلہ بھی عدالتوں میں ہوگا: رانا ثناءاللہ ایران پر حملہ؟ دنیا کا سب سے بڑا امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ بہت قریب پہنچ گیا خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی، پورے خطے پر قبضہ حق ہے: امریکی سفیر امریکی سپریم کورٹ کے ایکشن پر ٹرمپ کا ری ایکشن، تمام ممالک پر 10 فیصد گلوبل ٹیرف عائد TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم