کراچی: صفورا چورنگی کے قریب پولیس مقابلہ، 3 ڈاکو گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
کراچی کے علاقے صفورا چورنگی کے قریب پولیس نے مقابلے میں زخمی سمیت 3 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان واردات کے بعد فرار ہو رہے تھے کہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، ملزمان سے 3 پستول، موبائل فونز اور موٹر سائیکلیں برآمد ہوئی ہیں۔
گلشن حدید سے 100 سے زائد وارداتوں میں ملوث ملزم گرفتاردوسری جانب گلشن حدید میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ ہوا، جس میں 100 سے زائد وارداتوں میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تاہم اس کا ساتھی فرار ہو گیا۔
کراچی کے علاقے بھینس کالونی میں دوہرے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فون اور نقدی برآمد ہوئی ہے۔
پولیس نے کہا کہ ملزم نے سائٹ سپر ہائی وے تھانے میں تعینات سب انسپکٹر عامر علی کو شہید کیا تھا اور ملزم رینجرز پر فائرنگ کے مختلف واقعات میں بھی ملوث رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میں ملوث ملزم کو گرفتار
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔