بیرونی قرضوں، واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوز، سود کی ادائیگی میں 84 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اسلام آباد:
پاکستان کے ذمے بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیا، گزشتہ تین برسوں میں قرضوں پر سود کی ادائیگی84 فیصد تک بڑھ گئی، حجم1.91ارب ڈالر سے بڑھکر 3.59 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان بیرونی قرضوں پر8 فیصد تک شرح سے سود ادا کر رہا ہے،ان میں آئی ایم ایف، عالمی بینک،اے ڈی بی، کمرشل بینکوں کے قرضے شامل ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال سود سمیت قرضوں کی واپسی کی مد میں 13.
آئی ایم ایف کو 58کروڑ سود سمیت 2.10 ارب ڈالر، نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی مد میں 18.8کروڑ ڈالرسود سمیت 1.56ارب ڈالر، اے ڈی بی کو61.5 کروڑ سود سمیت 1.54ارب ڈالر،عالمی بینک کو 41.9کروڑ سود سمیت 1.25ارب ڈالر، سعودیہ کو3.3 کروڑ سود سمیت 81 کروڑ ڈالر ادا کئے، سعودی سیف ڈیپازٹس پر 20.3کروڑ ڈالرسود ادا کیا۔
حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال یورو بانڈ کے 50 کروڑ ڈالر،چین کو سیف ڈیپازٹس پر23.9 کروڑ سود سمیت 40 کروڑ ڈالر، جرمنی کو 10.7 کروڑ، فرانس کو 24 کروڑ ڈالرادا کئے گئے،اسلامی ترقیاتی بینک کا 27.70 کروڑڈالر قرضہ واپس کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کروڑ سود سمیت کروڑ ڈالر ارب ڈالر
پڑھیں:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔
اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔
مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔
مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔
مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔