پاکستان کے ذمے مجموعی قرض اور واجبات بڑھ کر 138 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں۔

مزید پڑھیں: یو اے ای نے پاکستان کا 2 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کردیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق اکنامک افیئرز ڈویژن کی تازہ دستاویزات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، اور گزشتہ 3 برسوں میں یہ رقم بڑھ کر 3.

59 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جو 84 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق 2022 کے مقابلے میں گزشتہ سال سود کی مد میں 1.67 ارب ڈالر زیادہ ادا کیے گئے۔

یہ ادائیگیاں آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور کمرشل بینکوں سمیت مختلف مالیاتی اداروں کو کی گئیں، جبکہ سعودی عرب اور چین کو سیف ڈپازٹس پر بھی سود ادا کیا گیا۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ سود اور اصل زر سمیت بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر سالانہ 13 ارب 32 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے۔

گزشتہ سال نیٹ بیرونی قرضوں میں 1.71 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم اسی عرصے کے دوران پاکستان نے تین برس میں مجموعی طور پر 9.73 ارب ڈالر قرض واپس بھی کیا۔

مزید پڑھیں: ہر پاکستانی پر قرضے کا بوجھ 13 فیصد بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار روپے ہو گیا، وزارتِ خزانہ کا انکشاف

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران 10.64 ارب ڈالر کے نئے قرضوں پر دستخط کیے گئے، جس سے مجموعی بیرونی قرضوں کا حجم مزید بڑھ گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اکنامک افیئرز دستاویزات رپورٹ قرض واجبات وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اکنامک افیئرز دستاویزات رپورٹ واجبات وی نیوز ارب ڈالر

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی