پاکستان کے ذمہ قرضوں و واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
پاکستان کےذمے بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیا،جبکہ ان قرضوں پر سود کی ادائیگی میں گزشتہ تین برسوں کےدوران 84 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیاگیا،تین سال کےدوران صرف سودکا حجم ایک ارب اکانوے کروڑ ڈالر سے بڑھ کر تین ارب انسٹھ کروڑ تک پہنچ گیا۔
دستاویزکےمطابق پاکستان کے بیرونی قرضوں پرسود کی ادائیگی میں 84 فیصد اضافہ ہوا، 3 سال میں سود کا حجم بڑھ کر 3.
دستاویز کےمطابق سعودی عرب اور چین نےبھی سیف ڈیپازٹس پرسود وصول کیا،سود سمیت قرضوں کی ادائیگی پرسالانہ 13 ارب 32 کروڑ ڈالرخرچ ہوئے،پاکستان کے نیٹ بیرونی قرضوں میں گزشتہ سال 1.71 ارب ڈالر اضافہ ہوا،پاکستان نے 11 کروڑ 44 لاکھ ڈالر قرض لیا،9.73 ارب ڈالر اصل رقم واپس کی بیرونی کمرشل قرض پر32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرسود سمیت 3 ارب ڈالر خرچ ہوئے،آئی ایم ایف کو 2.10 ارب ڈالر کی ادائیگی، 58 کروڑ ڈالر سود بھی شامل ہے۔
دستاویز کےمطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹ پر18 کروڑ 80 لاکھ ڈالرسود سمیت 1.56 ارب ڈالرخرچ ہوئے،اے ڈی بی کو 1.54 ارب ڈالرادا کئے گئے،61 کروڑ 50 لاکھ ڈالرسودشامل ہے،عالمی بینک کو 41 کروڑ 90 لاکھ ڈالرسود سمیت 1.25 ارب ڈالر ادائیگی ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کو 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سود سمیت 81 کروڑ ڈالر قرض واپس کیا،سعودی عرب کو سیف ڈیپازٹس کی مد میں بھی 20 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سود کی ادائیگی کی گئی۔پاکستان نےگزشتہ مالی سال یورو بانڈکی مدمیں 50 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کی،چین کو سیف ڈیپازٹس کے 23 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سود سمیت 40 کروڑ ڈالر کی ادائیگی،گزشتہ مالی سال جرمنی کو 10 لاکھ 70 کروڑ اور فرانس کو 24 کروڑ ڈالرادا کیا،اسلامی ترقیاتی بینک کو 27 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا قرضہ واپس کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سود کی ادائیگی پاکستان کے کروڑ ڈالر لاکھ ڈالر ارب ڈالر سود سمیت ڈالر سود کا حجم
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔