پاکستان کمزور نہیں، شہداء کے لہو سے مضبوط ہے، طارق فضل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پاک فضائیہ کی افغان سرحد پر دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے بعد کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو ایک واضح پیغام پہنچ گیا ہے کہ یہ سرزمین کمزور نہیں بلکہ شہداء کے لہو سے مضبوط ہوئی ہے۔
وزیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ افغانستان میں بھارتی سرپرستی میں موجود فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر بروقت آپریشن میں معصوم جانوں کا بدلہ لیا گیا ہے، یہ کارروائی صرف ایک فوجی اقدام نہیں بلکہ ہر اُس ماں کے آنسوؤں کا جواب تھا جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیا اور ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع تھا جو ایک محفوظ پاکستان کا خواہاں ہے۔
طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کوئی نہ کرے۔ ہم امن کے خواہاں ضرور ہیں لیکن اپنی سرزمین، عوام اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات جاری رہیں گے اور پاکستان ہر قسم کی داخلی و خارجی خطرات سے اپنی حفاظت کے لیے مکمل تیار ہے، یہ کارروائیاں عوام کی جان و مال کے تحفظ اور قومی سالمیت کے دفاع کے لیے ناگزیر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔