شدید فوجی دباؤ کے باوجود ایران امریکا کے سامنے نہ جھکا، ٹرمپ کی مایوسی بڑھ گئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اور بحری طاقت بڑھانے کے باوجود ایران کی جانب سے ہتھیار نہ ڈالنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مایوس دکھائی دیتے ہیں۔
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ان سے سوال کیا کہ اتنے دباؤ اور خطے میں بحری طاقت کی موجودگی کے باوجود ایران ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیوں نہیں کر رہا۔
اسٹیو وٹکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بھی پوچھا کہ ایران یہ کیوں نہیں کہتا کہ اسے ہتھیار نہیں چاہئیں، جبکہ امریکا خطے میں اپنی عسکری موجودگی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار ہو چکے ہیں، تاہم اب تک کوئی بڑی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت مزید بڑھا رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق ایک اور امریکی طیارہ بردار بحری جہاز بھی خطے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارتی راستہ اب بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے باوجود
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔