میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ اس وقت کراچی میں بڑی تعداد میں میگا پروجیکٹ چل رہے ہیں، کافی انڈر پاسز پر بھی کام جاری ہے، حکومت سندھ کی انتظامیہ اور میئر کراچی بھی دن رات کام کر رہے ہیں، حکومت سے کمی کوتاہیاں ہوئی ہونگی مگر نیت بالکل ٹھیک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کچھ لوگ ہر بات میں سیاست کرنا اور مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں۔ شرجیل میمن نے کراچی میں یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن منصوبے کا دورہ کیا، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا گیا کہ اس پروجیکٹ کی مالیت بڑھ گئی ہے اسے بند کریں لیکن تمام چیلنجز کے باوجود اس پروجیکٹ پر کام جاری رکھا گیا۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس پروجیکٹ کا جو کام رکا تھا وہ انتظامی معاملات کی وجہ سے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کہا کہ عید سے پہلے سائڈ کی سڑکوں پر کام کیا جائے جس کا مقصد عوام کو سہولت دینا ہے۔ شرجیل میمن نے بتایا ہے کہ اس وقت کراچی میں بڑی تعداد میں میگا پروجیکٹ چل رہے ہیں، کافی انڈر پاسز پر بھی کام جاری ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی انتظامیہ اور میئر کراچی بھی دن رات کام کر رہے ہیں، ہم چاہ رہے ہیں شہر کی اندرون گلیاں بھی مکمل ہوجائیں۔ شرجیل میمن نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت سے کمی کوتاہیاں ہوئی ہونگی مگر نیت بالکل ٹھیک ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شرجیل میمن نے کہا کہ رہے ہیں

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود