معیشت کی بہتری کے حکومتی دعوے بےبنیاد، غربت سے متعلق ڈیٹا تشویشناک ہے، تیمور جھگڑا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
پی ٹی آئی رہنما تیمور سلیم جھگڑا(فائل فوٹو)۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما خیبر پختونخوا میں سابق وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ معیشت کی بہتری کے حکومتی دعوے بےبنیاد ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔
تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس معیشت کی بہتری کا کوئی نسخہ نہیں، قومی غربت سے متعلق جو اعداد و شمار سامنے آئے وہ تشویشناک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں 22 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے تھے، اب 29 فیصد تک پہنچ چکے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پچھلے 11 سال میں غربت کی شرح بڑھی ہے، پنجاب اور سندھ میں غربت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔
تیمور سلیم جھگڑا کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب میں غربت میں اضافہ 41 اور سندھ میں 33 فیصد ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔