گرجا گھروں، مندروں سمیت دیگر اقلیتی عبادت گاہوں کی جائیدادوں کو محفوظ بنانے کیلئے بڑا اقدام
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
وزیراعلی مریم نواز شریف نے پنجاب میں گرجا گھروں، گردواروں، مندروں سمیت دیگر
اقلیتی عبادت گاہوں اور اداروں کی مشترکہ جائیدادوں کو محفوظ بنانے کیلئے بڑا اقدام کرتے ہوئے اقلیتیوں کی مشترکہ جائیدادوں کے تحفظ کیلئے موثر قانون سازی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
قانون سازی کے تحت اقلیتی اداروں کے ساتھ ساتھ حکومتی گرانٹ، خیرات، غیر ملکی فنڈنگ سے اقلیتیوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والے ادارے بھی مشترکہ جائیدادوں میں شمار کئے جائیں گے۔
صوبے میں اقلیتیوں کی مشترکہ جائیدادوں کے تحفظ کا بل برائے سال 2026 پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دیا گیا۔
بل پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور کے چیرمین فیلبوس کرسٹوفر نے جمع کروایا۔
بل کے تحت صوبے میں بسنے والی تمام اقلیتوں کی مشترکہ جائیدادوں کے تحفظ کیلئے ہونے والی قانون سازی کے تحت بااختیار صوبائی ایکشن کمیٹی قائم کی جائے گی۔
کمیٹی کے چیئرپرسن وزیراعلی کا نامزد صوبائی اسمبلی میں اقلیتی رکن ہوگا۔
سیکرٹری انسانی حقوق و اقلیتی امور اور سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور کمیٹی کے ارکان میں شامل ہوں گے۔
سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب بھی کمیٹی کے رکن ہوں گے، اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی چھ شخصیات بشمول ایک خاتون بھی کمیٹی کی رکن ہوں گئیں۔
بااختیار صوبائی ایکشن کمیٹی صوبے بھر میں اقلیتوں کی مشترکہ جائیدادوں کا ریکارڈ بنائے گی، کمیٹی مشترکہ جائیدادوں پر بننے والی تجاوزات، غیر قانونی قبضے اور ان جائیدادوں کے غلط استعمال کو بھی مانیٹر کرے گی۔
کمیٹی ایسی مشترکہ جائیدادوں کی فروخت، منتقلی اور لیز کے معاملات پر بھی حکومت کو اپنی سفارشات دے گی، کمیٹی صوبے میں بسنے والی تمام اقلیتیوں کو انکی مشترکہ جائیدادوں کے معاملے پر سہولت فراہم کرے گی۔
قانون سازی کے تحت تمام مشترکہ جائیدادوں کی فروخت، کسی کے نام پر منتقلی، لیز اور موڈگیج حکومتی اجازت کے بغیر نہیں کی جاسکے گی۔
حکومتی اجازت کے بغیر منتقلی، فروخت اور لیز سمیت کئے جانے والے تمام معاملات کی کوئی قانونی حثیت نہیں ہو گی۔۔
حکومتی امداد، پبلک فنڈز، مخیر حضرات کے مالی تعاون، خیرات، مشترکہ عطیہ، غیر ملکی فنڈنگ اور اقلیتیوں کی فلاح و بہبود جمع کئے جانے والے چندے سے لی جانے والی جائیداد، تعمیرات بھی مشترکہ جائیدادوں میں شمار کی جائیں گئیں۔
کوئی بھی شخص واحد مشترکہ جائیداد کی ملکیت کا دعوےدار نہیں ہوگا، ایسی تمام مشترکہ جائیدادیں جو کسی فرد واحد کے نام پر پہلے سے رجسٹرڈ ہیں وہ قانون سازی ہونے کے چھ ماہ میں انہیں مشترکہ جائیدادوں کیلئے منتقل کروانے کے پابند ہوں گے۔
بل کے مطابق اقلیتیوں کی مشترکہ جائیدادوں کو فروخت، منتقل یا لیز پر دینے کے جرم میں ملوث شخص کو سات سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی مشترکہ جائیدادوں کے کے تحت
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔