افغانستان میں فضائی کارروائی: دہشتگردوں کے کتنے ٹھکانے تباہ اور کون کون سے اہم کمانڈر مارے گئے، تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
گزشتہ رات پاکستان کی جانب سے انٹیلیجنس بنیادوں پر کی گئی فضائی کارروائی میں افغانستان کے 3 صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 7 مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 80 سے زائد شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق حملوں میں ٹی ٹی پی سے وابستہ اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا جبکہ مزید ہلاکتوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جن مراکز کو نشانہ بنایا گیا ان میں ننگرہار میں قائم نیا مرکز نمبر 1 اور نیا مرکز نمبر 2، خارجی اسلام مرکز اور خارجی ابراہیم مرکز شامل ہیں۔ اسی طرح خوست میں خارجی مولوی عباس مرکز جبکہ پکتیکا میں خارجی ملا رہبر اور خارجی مخلص یار کے مراکز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث عناصر کے نیٹ ورک کو کمزور کرنا تھا۔ تاہم اس حوالے سے افغان حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سرکاری سطح پر بھی اس کارروائی کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی، جبکہ آزاد ذرائع سے ہلاکتوں اور نقصانات کی تفصیلات کی توثیق نہیں ہوسکی۔ صورتحال پر مزید پیش رفت کا انتظار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔