امریکی محکمہ ہوم لینڈ نے 2 اہم ایئرپورٹ سیکیورٹی پروگرامز معطل کردیے، مسافر پریشان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے عارضی طور پر ایئرپورٹ سیکیورٹی پروگرامز ٹی ایس اے پری چیک اور گلوبل انٹری کو معطل کردیا ہے۔
یہ پروگرام رجسٹرڈ مسافروں کو سیکیورٹی لائنز میں تیزی سے گزرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، اور ان کی معطلی سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا میں گرفتار خطرناک مجرموں کی فہرست جاری، 89 بھارتی شہری بھی شامل
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے بیان میں کہاکہ سرکاری بندش کے حقیقی دنیا میں سنجیدہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ ٹی ایس اے اور سی بی پی اپنے ہوائی اڈوں اور داخلہ مقامات پر عام مسافروں کو ترجیح دے رہے ہیں اور شائستگی یا خصوصی مراعات والے اسکورٹس کو معطل کررہے ہیں۔
جزوی سرکاری بندش 14 فروری سے جاری ہے، جب ڈیموکریٹس اور وائٹ ہاؤس ہوم لینڈ سیکیورٹی کے لیے فنڈنگ کے بل پر متفق نہیں ہو سکے۔
ڈیموکریٹس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملک بدر کرنے کی مہم کے لیے ضروری امیگریشن کارروائیوں میں تبدیلی کے مطالبات کررہے ہیں۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کمیٹی میں ڈیموکریٹس نے اس فیصلے پر تنقید کی اور سوشل میڈیا پر کہاکہ انتظامیہ ایسے پروگرامز کو نقصان پہنچا رہی ہے جو سفر کو آسان اور محفوظ بناتے ہیں اور جان بوجھ کر آپ کے سفر کو مشکل بنا رہی ہے۔
ایئرلائنز فار امریکا جو بڑی ایئرلائنز کی نمائندگی کرتی ہے، نے کہا کہ کانگریس کے لیے وقت آ گیا ہے کہ وہ بات چیت کرے اور ایک معاہدہ کرے۔
اس تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا کہ مسافر عوام ایک بار پھر سیاسی کھیل کا شکار ہوں گے اور اعلان پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ انتہائی مختصر نوٹس پر جاری کیا گیا، جس سے مسافروں کے پاس منصوبہ بندی کے لیے کم وقت رہا۔
واضح رہے کہ ٹی ایس اے پری چیک اور گلوبل انٹری دونوں امریکا میں ایئرپورٹ سیکیورٹی اور امیگریشن پروگرامز ہیں، جو مسافروں کو سیکیورٹی اور کسٹم لائنز میں تیز اور آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
ٹی ایس اے پری چیک
• یہ پروگرام امریکی داخلہ کے سفر کے دوران سیکیورٹی چیک کو تیز کرتا ہے۔
• رجسٹرڈ مسافر خاص لائنز سے گزرتے ہیں، جہاں عام سیکیورٹی لائن کی نسبت وقت کم لگتا ہے۔
• اس کے تحت مسافر کو جوتے اتارنے کی ضرورت نہیں۔
• لیپ ٹاپ یا لیکوڈز بیگ سے نکالنے کی ضرورت نہیں۔
• ہلکی جیکٹ وغیرہ اتارنے کی ضرورت نہیں۔
• عام طور پر یہ پروگرام امریکا میں مقامی پروازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
گلوبل انٹری
• یہ پروگرام بین الاقوامی مسافروں کے لیے ہے جو امریکا میں داخل ہو رہے ہوں۔
• گلوبل انٹری کے تحت رجسٹرڈ مسافر کسٹم لائنز میں جلدی گزرتے ہیں اور کسٹم افسر کے ساتھ لمبی قطار میں انتظار نہیں کرنا پڑتا۔
مزید پڑھیں: امریکا میں شدید سرمائی طوفان، 10 ہزار پروازیں منسوخ، لاکھوں افراد متاثر
• اس میں ٹی ایس اے پری چیک کی سہولت بھی شامل ہو سکتی ہے، یعنی بین الاقوامی اور ملکی دونوں سفر پر تیز رسائی۔
• پروگرام میں حصہ لینے کے لیے پس منظر کی جانچ پڑتال اور انٹرویو لازمی ہوتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی محکمہ ہوم لینڈ ایئرپورٹ سیکیورٹی پروگرامز معطل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی محکمہ ہوم لینڈ ایئرپورٹ سیکیورٹی پروگرامز معطل وی نیوز ایئرپورٹ سیکیورٹی ہوم لینڈ سیکیورٹی محکمہ ہوم لینڈ گلوبل انٹری یہ پروگرام مسافروں کو امریکا میں کے لیے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔