خالد مقبول، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کا ایم کیو ایم رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا ہے کہ خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے۔
اپنے بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے، خالد مقبول صدیقیخالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمہ ہوتا ہے، ہم امن سے رہنے کی تمنا رکھنے والے لوگ ہیں، ایک اہم موڑ پر ہم داخل ہو گئے ہیں، ہم نے بھی اب فیصلہ کرنا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ وفاقی وزراء کی حیثیت سے اس طرح کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ وفاقی حکومت وضاحت کرے دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف پروپیگنڈا اور سازش میں کیوں مصروف ہیں؟
انہوں نے کہا کہ توقع کرتے ہیں وفاقی حکومت وضاحت کرے کہ ان کے دو وفاقی وزیر اور اتحادی جماعت مسلسل سندھ حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ اور سازش میں کیوں مصروف ہیں؟
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ گورنر ہاؤس آئینی منصب کی علامت ہے، اسے سیاسی محاذ آرائی یا صوبائی حکومت کیخلاف سرگرمیوں کا مرکز نہیں بننا چاہیے، ملک پہلے ہی سیاسی اور معاشی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ایسے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنا دانشمندی نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شرجیل میمن خالد مقبول نے کہا کہ
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔