سامعہ حجاب نے عمرہ ادا کر لیا، سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
معروف ٹک ٹاک اسٹار اور سوشل میڈیا انفلوئنسر سامعہ حجاب نے عمرہ ادا کر لیا۔
وہ اپنے قریبی عزیزوں کے ساتھ رمضان کے مقدس مہینے میں سعودی عرب گئی تھیں، جہاں انہوں نے عبادت اور روحانی تجربات کے مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کیے۔
اپنی وائرل ویڈیوز اور سابقہ منگیتر سے قانونی جھگڑوں کی وجہ سے خبروں میں رہنے والی سامعہ حجاب نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر عمرے کی کچھ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ ان تصاویر میں انہیں مقدس مقام کے قریب دیکھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیںرجب بٹ اور سامعہ حجاب کی نامناسب گفتگو وائرل، انٹرنیٹ پر شدید ردعمل
سامعہ حجاب کے مبینہ اغوا کا کیس، ٹک ٹاکر نے کیس واپس لے لیا
View this post on Instagramسامعہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا کہ زندگی میں دل اور روح کا سکون تلاش کرنے کے لیے یہ سفر کیا، انہوں نے لکھا کہ میں نے سکون پانے کے لیے نئے دوست بنائے، اپنی عادات کو بدلا لیکن کسی چیز نے کام نہیں کیا اور آخر کار اس سکون کو پانے کے لیے اللہ کے فضل سے مکہ میں حاضری دینے میں کامیاب ہوگئی۔
انہوں نے ساتھ آئے لوگوں میں کسی خاص شخص کی تصویر بھی شیئر کی جو ان کے لیے اہم تھا، لیکن ان کا چہرا دھندلا رکھا گیا تھا۔
مداحوں اور فالوورز نے بھی اُن کے اس روحانی سفر پر تبصرے کیے، کچھ نے ان کے لیے دعائیں کیں اور کچھ نے ان کی عمرہ کی تصاویر پر ری ایکشن بھی دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کے لیے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔