ایران کیخلاف جنگ کے معاملے پر ٹرمپ کی ٹیم میں پھوٹ پڑ گئی، امریکی نیوز سائٹ کی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہام کے حوالے سے بتایا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعدد قریبی ساتھی انہیں ایران پر بمباری نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کیخلاف جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم میں پھوٹ پڑنے کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ "Axios" نے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہام کے حوالے سے بتایا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعدد قریبی ساتھی انہیں ایران پر بمباری نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، تاہم گراہام نے ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ ان آوازوں کو نظر انداز کر دیں۔ "Axios" کے مطابق، دو طیارہ بردار بحری جہازوں اور سینکڑوں جنگی طیاروں کی وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے تیاری کے باوجود، ٹرمپ نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ویب سائٹ نے اشارہ کیا کہ صدر کو پیش کیے گئے فوجی اختیارات میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے صاحبزادے کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔
حملے اور انتظار کے درمیان منقسم ٹیم
ٹرمپ کے قریبی ساتھی لنڈسے گراہام صدر کے حلقے میں "حملے کے حامی" دھڑے کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے رواں ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا اور اسرائیلی حکام کے ساتھ ایرانی فائل پر تبادلہ خیال کیا۔ گراہام کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں "تاریخی تبدیلی لانے" کا ایک موقع دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بقول، ٹرمپ کے گرد و نواح میں ان آوازوں میں شدت آ رہی ہے جو کسی بھی فوجی مداخلت اور فیصلہ کن کارروائی سے وابستہ خطرات کی مخالفت کر رہی ہیں۔ دوسری جانب، ٹرمپ کے بعض مشیروں کا اصرار ہے کہ حملوں میں جلدی نہ کی جائے بلکہ مراعات حاصل کرنے کے لیے فوجی دھمکیوں کا استعمال جاری رکھا جائے۔ ان مشیروں کے درمیان ایران میں "حکومت کی تبدیلی" کے لیے کسی بھی آپریشن کی افادیت کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
مذاکرات میں محدود لچک
اسی دوران، ٹرمپ کی ٹیم نے ایران کے ساتھ بات چیت میں محدود لچک کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے "ایکزیوس" کو بتایا کہ واشنگٹن ایران کی اس تجویز پر غور کرے گا جس میں یورینیم کی "علامتی افزودگی" شامل ہو، بشرطیکہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔
معاشی خدشات اور بڑھتی ہوئی تشویش
ادھر خبر رساں ادارے "رائٹرز" کے مطابق، ایران کے ساتھ فوجی تصادم کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان نے ٹرمپ کے حلقے میں معاشی اور انتخابی حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ ان کے متعدد معاونین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سیاسی پیغام کو کسی مہنگی اور طویل جنگ میں الجھنے کے بجائے مہنگائی میں کمی اور زندگی کے اخراجات پر مرکوز رکھا جائے۔ ایجنسی کے مطابق، مشیروں کو خدشہ ہے کہ کوئی بھی وسیع جنگ مڈٹرم (وسط مدتی) انتخابات سے قبل ریپبلکنز کے معاشی ایجنڈے کو درہم برہم کر سکتی ہے، جبکہ عوامی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ووٹرز کی اولین ترجیح معیشت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ کے اندر حملے کے حوالے سے ابھی تک مکمل اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے حوالے سے ٹرمپ کے رہے ہیں
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔