امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہام کے حوالے سے بتایا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعدد قریبی ساتھی انہیں ایران پر بمباری نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کیخلاف جنگ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم میں پھوٹ پڑنے کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ "Axios" نے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہام کے حوالے سے بتایا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعدد قریبی ساتھی انہیں ایران پر بمباری نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، تاہم گراہام نے ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ ان آوازوں کو نظر انداز کر دیں۔ "Axios" کے مطابق، دو طیارہ بردار بحری جہازوں اور سینکڑوں جنگی طیاروں کی وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے تیاری کے باوجود، ٹرمپ نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ویب سائٹ نے اشارہ کیا کہ صدر کو پیش کیے گئے فوجی اختیارات میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے صاحبزادے کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

حملے اور انتظار کے درمیان منقسم ٹیم
ٹرمپ کے قریبی ساتھی لنڈسے گراہام صدر کے حلقے میں "حملے کے حامی" دھڑے کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے رواں ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا اور اسرائیلی حکام کے ساتھ ایرانی فائل پر تبادلہ خیال کیا۔ گراہام کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں "تاریخی تبدیلی لانے" کا ایک موقع دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بقول، ٹرمپ کے گرد و نواح میں ان آوازوں میں شدت آ رہی ہے جو کسی بھی فوجی مداخلت اور فیصلہ کن کارروائی سے وابستہ خطرات کی مخالفت کر رہی ہیں۔ دوسری جانب، ٹرمپ کے بعض مشیروں کا اصرار ہے کہ حملوں میں جلدی نہ کی جائے بلکہ مراعات حاصل کرنے کے لیے فوجی دھمکیوں کا استعمال جاری رکھا جائے۔ ان مشیروں کے درمیان ایران میں "حکومت کی تبدیلی" کے لیے کسی بھی آپریشن کی افادیت کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

مذاکرات میں محدود لچک
اسی دوران، ٹرمپ کی ٹیم نے ایران کے ساتھ بات چیت میں محدود لچک کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے "ایکزیوس" کو بتایا کہ واشنگٹن ایران کی اس تجویز پر غور کرے گا جس میں یورینیم کی "علامتی افزودگی" شامل ہو، بشرطیکہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔

معاشی خدشات اور بڑھتی ہوئی تشویش
ادھر خبر رساں ادارے "رائٹرز" کے مطابق، ایران کے ساتھ فوجی تصادم کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان نے ٹرمپ کے حلقے میں معاشی اور انتخابی حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ ان کے متعدد معاونین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سیاسی پیغام کو کسی مہنگی اور طویل جنگ میں الجھنے کے بجائے مہنگائی میں کمی اور زندگی کے اخراجات پر مرکوز رکھا جائے۔ ایجنسی کے مطابق، مشیروں کو خدشہ ہے کہ کوئی بھی وسیع جنگ مڈٹرم (وسط مدتی) انتخابات سے قبل ریپبلکنز کے معاشی ایجنڈے کو درہم برہم کر سکتی ہے، جبکہ عوامی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ووٹرز کی اولین ترجیح معیشت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ کے اندر حملے کے حوالے سے ابھی تک مکمل اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے حوالے سے ٹرمپ کے رہے ہیں

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل