ہند-امریکہ تجارتی سمجھوتہ "ڈیل" نہیں "دباؤ" ہے، جے رام رمیش
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
کانگریس لیڈر نے پوچھا کہ اگر یہ سمجھوتہ واقعی بھارت کے مفاد میں ہے تو کسان تنظیمیں اور کسان اسکے بارے میں فکرمند کیوں نظر آرہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر اور پارلیمنٹ کے رکن جے رام رمیش نے ہند-امریکہ تجارتی سمجھوتے کو لے کر مودی حکومت پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے اسے متوازن معاہدہ قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی حقیقی سمجھوتے کی بنیاد لینا اور دینا ہوتی ہے، لیکن اگر ایک فریق زیادہ دے اور بدلے میں اسے محدود فائدہ حاصل ہو تو اسے برابری کا معاہدہ نہیں بلکہ دباؤ کہا جائے گا۔ جے رام رمیش نے واضح کیا کہ وہ محض سیاسی الزام تراشی نہیں کر رہے بلکہ دستیاب حقائق کی بنیاد پر گفتگو کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی اور پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی اسی بنیاد پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر یہ سمجھوتہ واقعی ملک کے مفاد میں ہے تو کسان تنظیمیں اور کسان اس کے بارے میں فکرمند کیوں نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان خدشات کا سنجیدگی سے جواب دینا چاہیئے۔
انہوں نے امریکہ کی تجارتی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ وقتاً فوقتاً ٹیرف میں تبدیلی کرتے رہے ہیں اور اپنے قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ہندوستان اپنی شرائط پر فیصلے کیوں نہیں کر سکتا۔ جے رام رمیش کے مطابق کسی بھی دوطرفہ معاہدے میں برابری اور توازن بنیادی شرط ہونی چاہیے، لیکن موجودہ سمجھوتے میں ہندوستان کی جانب سے زیادہ رعایتیں دی گئی ہیں جبکہ بدلے میں حاصل ہونے والے فوائد محدود دکھائی دیتے ہیں۔ کانگریس رہنما نے خبردار کیا کہ اس سمجھوتے کے اثرات آنے والے مہینوں میں واضح ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ درآمدات کو زیادہ آزاد بنایا جا رہا ہے اور درآمدی محصولات میں کمی کی جا رہی ہے، جس سے قلیل مدت میں درآمدات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ برآمدات کا ممکنہ فائدہ طویل مدت کے بعد سامنے آئے گا، جبکہ فوری دباؤ مقامی صنعت اور کسانوں پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسی صورت حال میں ملکی مفادات کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے گا۔
پارلیمنٹ کے کام کاج پر بھی جے رام رمیش نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان کو منظم طریقے سے چلانے کی بنیادی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اپوزیشن اپنا کردار ادا کرتی ہے، لیکن اگر حکومت سنجیدہ نہ ہو تو کارروائی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض اراکین کی جانب سے اپوزیشن لیڈر اور سابق وزرائے اعظم کے خلاف نازیبا بیانات دیے جاتے ہیں مگر ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی، جو جمہوری روایت کے لئے مناسب نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے رہے ہیں کیا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔