یو اے ای کے سفارت خانے کے فٹ بال گراؤنڈ میں رمضان فٹبال ٹورنامنٹ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے فٹ بال گراؤنڈ میں رمضان فٹ بال ٹورنامنٹ 2026ء کا آغاز ہو گیا۔
پاکستان میں متعین متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد الزعابی اسلام سفارتکاروں، حکام اور تماشائیوں کے ایک بڑے اجتماع کی موجودگی میں آغاز ہوا۔ افتتاحی تقریب میں کویت کے سفیر، لبنان کے سفیر، زمبابوے کے سفیر، ریاست ہائے متحدہ امریکا کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن، پاکستانی حکومت کے سینئر عہدیداران، سفارتی برادری کے ارکان اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مزید پڑھیںلیاری فٹبال اکیڈمی کی ٹیم انٹرنیشنل یوتھ فٹبال ٹورنامنٹ کیلئے سنگاپور روانہ
چین میں پہلے روبو لیگ فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد
یہ سالانہ ٹورنامنٹ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران کھیلوں کی روح، ثقافتی تبادلے اور کمیونٹی کی شمولیت کو فروغ دینے کا ہدف رکھتا ہے۔متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم محمد الزعابی کا کہنا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں ماہ صیام کی برکتوں کے ساتھ جسمانی صحت بھی بہت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے سفارت خانے میں فٹ بال کے میچز کا انعقاد کیا جاتا ہے، اس میگا ایونٹ میں مخلتف سفارت خانوں کی فٹ بال کی ٹیمیں شرکت کرتی ہیں جو کہ دوستی کی علامت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بال ٹورنامنٹ کے سفیر فٹ بال
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔