وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ روس کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ روس کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2026 سب نیوز
ماسکو(آئی پی ایس )وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے دورہ روس کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، وزیرِاعظم کے ہمراہ اعلی سطحی شخصیات اور سفارتی وفد بھی روس پہنچے گا، ان کا یہ دورہ روس 2 سے 5 مارچ تک جاری رہے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، توانائی اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے اور تجارتی روابط کو وسعت دینے کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔دورے کے دوران وزیرِاعظم ماسکو میں گمنام سپاہی کی یادگار پر حاضری دیں گے اور کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے اہم ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں توانائی کے شعبے میں تعاون، رعایتی نرخوں پر تیل و گیس کی فراہمی، ممکنہ ایل این جی معاہدات، پاکستان اسٹیل مل کی بحالی یا جدید کاری، صنعتی شراکت داری، دفاعی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے چند اہم پیش رفت بھی سامنے آ سکتی ہے۔وزیرِاعظم پاکستان۔روس بزنس فورم میں شرکت کریں گے جہاں دونوں ممالک کی سرکردہ کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار شریک ہوں گے، فورم میں زراعت، توانائی، لاجسٹکس، معدنیات اور بھاری صنعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر غور کیا جائے گا، مقامی کرنسی میں تجارت اور متبادل مالیاتی طریقہ کار جیسے امور بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے تاکہ دوطرفہ تجارت کو درپیش رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اقتصادی شراکت داری مرکزی حیثیت اختیار کر رہی ہے، ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں توانائی اور تجارتی شعبوں میں جو پیش رفت ہوئی ہے وہ اعتماد سازی کی علامت ہے اور اس دورے سے عملی نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔وزیرِاعظم ماسکو میں مقیم پاکستانی طلبہ سے خطاب بھی کریں گے جبکہ پاکستان ایمبیسی کی مختص اراضی کا دورہ اور ماسکو کیتھیڈرل مسجد میں حاضری بھی پروگرام کا حصہ ہے، جس سے عوامی اور ثقافتی روابط کو تقویت ملے گی، بعد ازاں وزیرِاعظم سینٹ پیٹرزبرگ جائیں گے جہاں وہ مقامی بزنس کمیونٹی سے ملاقات کریں گے اور شہر کے تاریخی و ثقافتی مقامات ریڈ بلڈ چرچ اور ہرمیٹیج میوزیم کا دورہ بھی کریں گے۔سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی منظرنامے میں پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کے تناظر میں یہ دورہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے، اگر توانائی، اسٹیل مل اور صنعتی تعاون کے شعبوں میں کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے آتی ہے تو یہ پاکستان اور روس کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، دورہ مکمل ہونے کے بعد وزیرِاعظم وفد کے ہمراہ وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزارت داخلہ کا سپینش ریذیڈنٹ کارڈ سے متعلق شہریوں کو مکمل سہولیات دینے کا فیصلہ وزارت داخلہ کا سپینش ریذیڈنٹ کارڈ سے متعلق شہریوں کو مکمل سہولیات دینے کا فیصلہ وزیراعلی پنجاب نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3کا باقاعدہ افتتاح کر دیا شیر افضل کی گفتگو مایوس کن، علیمہ نے مستعفی ہونے کا پیغام نہیں بھیجا، بیرسٹر گوہر پی ایچ ایف نے قومی کھیل کی بحالی اور اصلاحات کیلئے نئی ایڈہاک کمیٹی تشکیل دیدی دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑنے کیلئے قوم افواج پاکستان کیساتھ ہے، گورنر پنجاب سلیم حیدر خان بنگلہ دیش میں انتقال اقتدار کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس 12مارچ کو طلبCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں داخل ہو کریں گے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ