حکومت کا قائداعظم اور علامہ اقبال کی حیات و خدمات پر ویب سیریز بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیرِ صدارت ایک مشاورتی اجلاس میں قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کی حیات و خدمات پر مبنی عالمی معیار کی تاریخی ویب سیریز تیار کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی زیر صدارت اجلاس میں ملک کے ممتاز میڈیا ہاؤسز، پروڈیوسرز، ہدایت کاروں اور تخلیقی شعبے سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
احسن اقبال نے کہا کہ قائداعظم اور علامہ اقبال کی 150ویں سالگرہ کی تقریبات کو محض رسمی تقاریب تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے قومی تجدید اور فکری احیاء کا سنگِ میل بنایا جائے گا، بامقصد کہانی سنانا قوم سازی کا ایک طاقتور ذریعہ ہے اور نوجوان نسل کو قیامِ پاکستان کے نظریاتی سفر، آئین پسندی اور قومی اقدار سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اداکارہ صبور علی بولڈ ساڑھی کی وجہ سے پھر تنقید کی زد میں آ گئیں
انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ قائداعظم کی آئینی جدوجہد اور علامہ اقبال کے فکری وژن کو عالمی بیانیے کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ دنیا کو پاکستان کے نظریاتی ورثے اور فکری گہرائی سے روشناس کرایا جا سکے، تاریخی ڈرامے سافٹ پاور اور ثقافتی سفارتکاری کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں اور پاکستان اپنی مثبت عالمی شناخت کو مضبوط بنانے کے لیے تخلیقی صنعت کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دے گا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے اعلان کیا کہ حکومت عالمی معیار کی پروڈکشن کے لیے 50 کروڑ روپے تک سیڈ فنڈنگ فراہم کرے گی، اس کے ساتھ ساتھ مصنفین اور پروڈیوسرز کے لیے علمی ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ تاریخی تحقیق، مستند مواد اور فکری گہرائی کو یقینی بنایا جا سکے، تحقیق پر مبنی اور عالمی معیار کی تاریخی پروڈکشنز تیار کی جائیں گی اور قومی ورثے کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔
کراچی: رہائشی عمارت میں دھماکے کے بعد آتشزدگی، ایک بچہ جاں بحق
اجلاس میں قومی تاریخ کو سافٹ پاور میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا اور تخلیقی صنعت کو ریاستی سرپرستی کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کے عزم کا اظہار کیا گیا، شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی مارکیٹس میں پاکستانی تاریخی مواد کی مؤثر نمائندگی کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جائے اور پاکستان کے اپنے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے قیام کی ضرورت پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ قومی ہیروز کے افکار کو نوجوان نسل کے لیے قابلِ فہم اور متاثر کن انداز میں پیش کیا جائے گا اور ڈرامہ و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان کی نظریاتی اساس کو مزید تقویت دی جائے گی۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، آج دو میچ کھیلے جائیں گے، انڈیا کا جنوبی افریقہ سے ٹاکرا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اور علامہ نے کہا کہ اقبال کی کیا جائے جائے گا کے لیے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔