پاکستان کی افغانستان میں کارروائی، دہشتگردوں کے7 ٹھکانوں کو نشانہ بنا ڈالا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے حالیہ دہشتگردی کے واقعات کے بعد فتنہ الخوارج کے خلاف سرحد پار بڑی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنا ڈالا۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں، جن میں اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے واقعات اور آج بنوں میں ماہِ رمضان کے دوران پیش آنے والا دھماکہ شامل ہے، کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ یہ کارروائیاں خوارج نے اپنے افغانستان میں موجود سرغناؤں اور ہینڈلرز کی ہدایت پر کیں۔
نائجیریا ، موٹر سائیکل سوار مسلح افراد کا گاؤں پر حملہ، 50 افراد قتل، متعدد خواتین اور بچوں کو اغوا کر لیا
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان کے گروہ فتنہ الخوارج (FAK) اور اس سے منسلک عناصر کے علاوہ دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ (آئی ایس کے پی) نے بھی قبول کی ہے۔ حکومت کے مطابق پاکستان بارہا افغان طالبان حکومت سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور بیرونی پراکسیز کے لیے استعمال ہونے سے روکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان عناصر کے خلاف کوئی مؤثر اور ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر سرحدی علاقے میں پاکستان۔افغانستان بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج سے وابستہ پاکستانی طالبان اور اس کے اتحادی گروہوں کے ساتھ ساتھ آئی ایس کے پی کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انتہائی درستگی اور مہارت کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔
چین پر انحصار کم کرنے کیلئے انڈیا نے برازیل سے نایاب دھاتوں کا معاہدہ کرلیا
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عبوری افغان حکومت سے ایک بار پھر توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج اور دیگر دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے کیونکہ پاکستانی عوام کا تحفظ ہر صورت مقدم ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادہ کرے تاکہ کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو روکا جا سکے، جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
Press Release
21 February, 2026
In the aftermath of recent suicide bombing incidents in Pakistan, including Imam Bargah at Islamabad, one each in Bajaur and Bannu followed by another incident today in Bannu during the holy month of Ramzan, Pakistan has conclusive evidence that…
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔