پاکستان کی افغانستان میں کارروائی، دہشتگردوں کے 7 ٹھکانے تباہ کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
پاکستان کی افغانستان میں کارروائی، دہشتگردوں کے 7 ٹھکانے تباہ کر دیے WhatsAppFacebookTwitter 0 22 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) افغان طالبان کی دہشتگردانہ کارروائیوں کے جواب میں پاکستان نے افغانستان میں مختلف مقامات پر دہشتگردوں کے 7 ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشتگرد قیادت اور ان کے سہولت کار ملوث ہیں، دہشتگردوں نے حال ہی میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، فتنہ الخوارج اور ان کے اتحادیوں نے قبول کی ہے، پاکستان کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشتگردانہ کارروائیاں افغانستان میں موجود قیادت کی ہدایات پر کی گئیں
وزارت کے مطابق پاکستان نے متعدد بار افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگرد تنظیموں اور پراکسی عناصر کے استعمال سے روکنے کیلئے قابلِ تصدیق اقدامات کرے، تاہم افغان عبوری حکومت اس سلسلے میں مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔
جاری بیان کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے جوابی کارروائی کرتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کے 7 کیمپس اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم پاکستانی عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے سے روکے۔
وزارت اطلاعات نے مزید کہا عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغان طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے تاکہ خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے۔
پاکستان میں حالیہ خودکش بم دھماکوں کے واقعات، بشمول اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ، بنوں اور آج بنوں میں ہی رمضان کے مقدس مہینے کے دوران مزید ایک واقعے کے بعد، پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کی ایماء پر کیں۔
ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان جن کا تعلق فتنہ الخوارج (ایف اے کے) اور ان سے وابستہ تنظیموں اور دولت اسلامیہ صوبہ خراسان (آئی ایس کے پی) نے بھی قبول کی تھی.
پاکستان کی جانب سے بار بار افغان طالبان حکومت پر زور دینے کی کوششوں کے باوجود کہ وہ افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے لیے واضح اقدامات کرے، افغانستان مے موجود دہشت گرد گروہ اور غیر ملکی پراکسیز پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں، افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن واستحکام برقرار رکھنے کیلئے کوشاں رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس سب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پاکستان نے جوابی کارروائی میں، پاکستانی طالبان کے FAK اور اس سے وابستہ تنظیموں اور ISKP کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو پاک افغان سرحدی علاقے میں انتہائی درستگی کے ساتھ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کاروائی میں نشانہ بنایا ہے۔
پاکستان، عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے کہ عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج و دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال کو روکے، کیونکہ پاکستان کے لوگوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع کرتا ہے کہ وہ طالبان حکومت پر زور دے کر مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے کہ وہ دوحہ معاہدے کے مطابق افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے لیے اپنے وعدوں پر قائم رہے جو کہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک اہم اقدام ہے.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعلیمہ خان نے پی ٹی آئی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا: شیر افضل مروت امریکا اور ایران آمنے سامنے: ٹرمپ کی فوجی تیاریوں اور سخت دھمکیوں کے بعد خطہ بڑی جنگ کے دہانے پرپہنچ گیا پاکستان کے ذمہ قرض اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے بڑھ گیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر غصہ، امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی ٹیرف 10سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سپر 8: پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ بارش کے باعث منسوخ کر دیا گیا شہباز شریف کے دورہ روس پر سفارتی و میڈیا فورم کے انعقاد کا فیصلہ سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم یا کراچی علیحدہ کیخلاف قرارداد منظور، ایم کیو ایم کی مخالفتCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغانستان میں دہشتگردوں کے 7
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔