شہباز شریف کے دورہ روس پر سفارتی و میڈیا فورم کے انعقاد کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
شہباز شریف کے دورہ روس پر سفارتی و میڈیا فورم کے انعقاد کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 February, 2026 سب نیوز
ماسکو (آئی پی ایس ) وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان شہباز شریف کے 3 تا 5 مارچ 2026 کے سرکاری دورہ ماسکو کے موقع پر میڈیا فورم ماسکو، اسلام آباد کے عنوان سے ایک اہم اور جامع تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ سفارتی و میڈیا فورم میں روس اور پاکستان کے ممتاز سفارتکار، ماہرینِ بین الاقوامی امور، دانشور اور سینئر صحافی شرکت کریں گے۔یہ فورم ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب عالمی سیاسی و سفارتی نظام تیزی سے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا ہے اور نئی عالمی صف بندیاں تشکیل پا رہی ہیں۔مبصرین کے مطابق روس اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط اس بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
ماسکو میں منعقدہ اجلاس میں روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، روسی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز کے ممتاز محقق ویاچیسلاو بیلوکرینتسکی اور سینئر ریسرچ فیلو نتالیہ زامارایوا شریک ہوں گے۔معروف روسی اخبار کے مبصر سرگئی ستروکان، بین الاقوامی تعلقات کی ماہر روکسولانا ژیگون، ٹی وی چینل آر ٹی انٹرنیشنل کے سینئر پروڈیوسر دمتری لیونتییف، میڈیا گروپ روسیا سیوودنیا کے نمائندہ دیمتری سائیمز اور آن لائن پروڈکٹس کے سربراہ انتون چیباروف بھی شرکت کریں گے۔
اسلام آباد میں منعقد ہونے والی نشست میں سینیٹر اور سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید، پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ خورِیف، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی سربراہ ثروت رف شریک ہوں گی۔اس نشست میں افتخار شیرازی، وزارتِ دفاع پاکستان کے مشیر سلطان ماریا، ایشیا ون کے نمائندہ انس ملک، ایکسپریس نیوز کے بیورو چیف امیر الیاس رانا اور آج نیوز کے سینئر صحافی و تجزیہ کار شوکت پراچہ بھی شریک ہوں گے۔
فورم کے دوران روس اور پاکستان کے باہمی تعلقات کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اقتصادی تعاون، توانائی، دفاعی روابط، میڈیا شراکت داری اور عالمی سیاسی و اطلاعاتی نظام میں روس-پاکستان اشتراک کے کردار پر خصوصی نشستیں متوقع ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط، دفاعی تعاون، ماہرین کی سطح پر مکالمہ اور میڈیا تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اس فورم کا مقصد ان روابط کو مزید مستحکم اور منظم بنانا ہے۔منتظمین کے مطابق تقریب میں شرکت صرف پیشگی ایکریڈیٹیشن کے ذریعے ممکن ہوگی۔ صحافیوں کو پاسپورٹ اور درست ادارتی شناختی کارڈ پیش کرنا ہوگا۔ملٹی میڈیا پریس سینٹر روسیا سیوودنیا کو بغیر وجہ بتائے ایکریڈیٹیشن مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ میڈیا فورم وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ماسکو کے تناظر میں نہایت اہم پیش رفت ہے۔توقع کی جا رہی ہے کہ اس مکالمے کے ذریعے نہ صرف سفارتی تعلقات کو تقویت ملے گی بلکہ اطلاعاتی اور فکری سطح پر بھی روس اور پاکستان کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔ روس اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے روابط کو خطے میں نئی سفارتی صف بندی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم یا کراچی علیحدہ کیخلاف قرارداد منظور، ایم کیو ایم کی مخالفت سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم یا کراچی علیحدہ کیخلاف قرارداد منظور، ایم کیو ایم کی مخالفت پہلی حج پرواز 19 اپریل کو روانہ ہوگی، تربیتی مرحلہ عید بعد شروع ہوگا امریکا کا پاکستان میں آئی ٹی، مائننگ، معدنیات سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچپسی کا اظہار۔ پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف امووایبل پراپرٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2026 سامنے آگیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سپر 8: پاکستان کا نیوزی لینڈ کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سپر 8 : پاکستان اور نیوزی لینڈ کے اہم میچ میں بارش کا امکانCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: شہباز شریف کے میڈیا فورم
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔