ملتان، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کے والد مخدوم سید علمدار حسین گیلانی کی 48ویں برسی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
مرحوم مخدوم سید علمدار حسین گیلانی آئین ساز اسمبلی کے رکن رہے، قیامِ پاکستان کے بعد وزیر صحت و بلدیات کے منصب پر فائز رہے اور 1956ء کے آئین پر ان کے دستخط موجود ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کے والد، تحریکِ پاکستان کے رہنماء و سابق وفاقی وزیر مخدوم سید علمدار حسین گیلانی کی 48ویں برسی کے موقع پر دربار موسیٰ پاک شہید کے احاطے میں محفلِ حمد و نعت منعقد کی گئی۔ برسی کی تقریب میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام اکابرین اور مہمانوں کے شکر گزار ہیں، جو اس موقع پر شریک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد مرحوم مخدوم سید علمدار حسین گیلانی آئین ساز اسمبلی کے رکن رہے، قیامِ پاکستان کے بعد وزیر صحت و بلدیات کے منصب پر فائز رہے اور 1956ء کے آئین پر ان کے دستخط موجود ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ ان کے والد ننگے پاوں چلتے ہوئے مزارِ قائد پر حاضری دینے گئے اور قائداعظم محمد علی جناح کو بتایا کہ ہم نے آئین بنا لیا ہے۔
برسی کے موقع پر مرحوم مخدوم علمدار حسین گیلانی کی تحریکِ پاکستان اور قومی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر علامہ فاروق خان سعیدی نے خطاب کرتے ہوئے مرحوم کی جدوجہد اور خدمات پر روشنی ڈالی جبکہ سجادہ نشین دربار موسیٰ پاک شہید مخدوم سید ابوالحسن گیلانی نے خصوصی دعا کروائی۔ برسی کے موقع پر ممبر قومی اسمبلی سید علی موسیٰ گیلانی، ممبر قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی، ممبر صوبائی اسمبلی سید علی حیدر گیلانی، سینیٹر رانا محمود الحسن، سابق رکن صوبائی اسمبلی سید احمد مجتبیٰ گیلانی اور رہنماء پاکستان پیپلز پارٹی ملک منظور ڈومرا سمیت کثیر تعداد میں معزز شخصیات نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مخدوم سید علمدار حسین گیلانی سید یوسف رضا گیلانی اسمبلی سید کے والد
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔