دنیا میں بھانت بھانت کی مخلوق بستی ہیں اور ماورائے عقل واقعات بھی رونما ہوتے ہیں جو انسانوں کو ششدر اور چونکا کر رکھ دیتے ہیں ایسا ہی ایک واقعہ صبا قمر کے ساتھ ہوا۔

منجھی ہوئی اداکارہ صبا قمر نے نجی ٹی وی پروگرام میں ڈراما سیٹ پر پیش آنے والا ایک ایسا پُراسرار واقعہ سنایا جس نے نہ صرف شوٹنگ ٹیم کو خوفزدہ کر دیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی۔

اداکارہ صبا قمر نے بتایا کہ یہ واقعہ ڈرامہ سیریل معمہ کی شوٹنگ کے دوران پیش آیا تھا جب ان کے میک اپ آرٹسٹ وضو کے لیے گئے تو اچانک انھیں کسی نامعلوم طاقت نے عقب سے تھپڑ مارا۔

اداکارہ کے بقول حیران کن بات یہ تھی کہ اُس وقت وہاں کوئی موجود نہیں تھا اور نہ ہی میک اپ آرٹسٹ کو کچھ دکھائی دیا۔

صبا قمر نے کہا کہ اس واقعے کے بعد سیٹ پر خوف کی فضا قائم ہو گئی اور کئی افراد نے اسے جنات سے جڑا کوئی معاملہ قرار دیا۔

اداکارہ نے کہا کہ ممکن ہے شوٹنگ کے دوران کسی ایسی جگہ مداخلت ہوگئی ہو جو ہم انسانوں کے لیے موزوں نہ تھی۔

صبا قمر نے واضح کیا کہ وہ غیر ماورائی مخلوقات کے وجود کو یکسر رد نہیں کرتیں تاہم خوف کے باوجود شوٹنگ مکمل کی کیونکہ ڈرامے کا بڑا حصہ ریکارڈ ہو چکا تھا۔

ان کے بقول زندگی کے تجربات نے انھیں اس حد تک مضبوط بنا دیا ہے کہ اب ایسی باتیں انہیں کام سے روک نہیں سکتیں۔

صبا قمر کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں کچھ افراد اسے محض اتفاق قرار دے رہے ہیں جبکہ کئی صارفین اسے دلچسپ اور حیران کن واقعہ کہہ رہے ہیں۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی