شہید لیفٹیننٹ کرنل گل فراز تنولی کی نماز جنازہ مانسہرہ میں ادا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
پاک فوج کے بہادر افسر، لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز تنولی کی آج ٹھاکرہ اسٹیڈیم، مانسہرہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ وہ وطن کی خدمت کے دوران دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے دوران شہید ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:قلات میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشت گرد ہلاک
لیفٹیننٹ کرنل گل فراز خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر دہشتگردوں کے حملے کے دوران محاذ پر موجود تھے۔ دہشتگردوں نے خودکش حملہ کیا جس میں وہ اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہو گئے۔ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 5 دہشتگرد بھی مارے گئے۔
شہید افسر اپنی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور محاذ پر مؤثر قیادت کے باعث ساتھیوں میں بے حد قابلِ احترام تھے۔ انہوں نے پسماندگان میں بیوہ، 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں چھوڑیں۔ قوم نے ان کی قربانی کو خراج تحسین پیش کیا اور فوج نے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کو بلاامتیاز جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔
بنوں حملے میں شہید لیفٹیننٹ کرنل گل فراز جرأت اور محاذ پر قیادت کی صلاحیت کے باعث قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹھاکرہ اسٹیڈیم ضلع بنوں کرنل گلفراز تنولی نماز جنازہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ کرنل گل فراز کرنل گل
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔