بیرونی قرض پر 8 فیصد سود ادائیگی کا دعویٰ گمراہ کن قرار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
فائل فوٹو
وزارت خزانہ نے بیرونی قرضوں پر 8 فیصد سود ادائیگی کے دعوے کو گمراہ کن قرار دے دیا۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق پاکستان بیرونی قرض پر اوسطاً 4 فیصد سود ادا کر رہا ہے، 8 فیصد ادائیگی کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔
پاکستان کے ذمے قرض اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سےبڑھ گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق مالی سال 2022ء میں سود کی ادائیگی 1 اعشاریہ 99 ارب ڈالر جبکہ 2025ء میں 3 اعشاریہ 59 ارب ڈالر رہی۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق سود کی ادائیگیوں میں اضافہ 80 اعشاریہ 4 فیصد ہے، رپورٹ کردہ 84 فیصد درست نہیں۔
اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کو 1 اعشاریہ 50 ارب ڈالر ادائیگی کی گئی، جس میں 580 ملین ڈالر سود شامل ہے، ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کو 1 اعشاریہ 54 ارب ڈالر اور عالمی بینک کو 1 اعشاریہ 25 ارب ڈالر ادائیگی کی گئی۔
روشن ڈیجیٹل اکاونٹس میں جنوری میں 21 کروڑ 60 لاکھ ڈالر جمع کرائے گئے۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت 1 اعشاریہ 56 ارب ڈالر ادائیگی کی گئی، جس میں 94 ملین ڈالر سود شامل ہے۔
اعلامیے کے مطابق بیرونی کمرشل قرضوں کی مد میں تقریباً 3 ارب ڈالر ادائیگی کی گئی، جس میں327 ملین ڈالر سود ہے، سود میں اضافہ صرف قرضوں کے حجم میں اضافے کی وجہ سے نہیں۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق 23-2022ء میں زرمبادلہ ذخائر 1 ماہ کی درآمدات سے کم ہوگئے تھے، عالمی شرح سود میں اضافے سے بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھا۔
اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف اور ای ایف ایف پروگرام اور کثیرالجہتی فنڈنگ سے ذخائرکی بحالی ممکن ہوئی، امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود 5 اعشاریہ 25 تا 5 اعشاریہ50 فیصد تک بڑھائی تھی، حکومت ذمہ دارانہ قرض انتظام اور معاشی استحکام کے لیے پرعزم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق ارب ڈالر ادائیگی کی گئی
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔