پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائی: دہشت گردوں کے 7ٹھکانے تباہ،80خوارجی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائی کے دوران ٹی ٹی پی کے سات ٹھکانے تباہ ہوئے جبکہ 80 سے زائد خوارج مارے گئے۔
عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے گزشتہ رات افغانستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایئراسٹرائیک کی گئی ہیں جس میں تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا جب کہ 80 سے زائد خوارجی مارے جانے کی اطلاعات بالکل مصدقہ ہیں جب ہلاکتیں بڑھنے کا امکان ہے۔
عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے جو سات ٹھکانے تباہ ہوئے ان میں نیا مرکز نمبر ایک ننگرہار، نیا مرکز نمبر دو ننگرہار، خارجی مولوی عباس مرکز خوست، خارجی اسلام مرکز ننگرہار، خارجی ابراہیم مرکز ننگرہار، خارجی ملا رہبر مرکز پکتیکا اور خارجی مخلص یار مرکز پکتیکا شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔