نظام شمسی کے چار سیارے چٹانوں سے بنے ہوئے ہیں ۔ اُن کے سائز چھوٹے ہیں لیکن اُن کی سطح سخت ہے ۔ اگر نظام شمسی کی بیرونی سائیڈ پر چلے جائیں تو یہاں پر جو سیارے نظر آئیں گے وہ گیسز سے بنے ہوئے ہیں اور بڑے بڑے سائز کے ہیں ۔ سب کے گرد رنگز ہیں ۔
ان کے چاند بہت کم ہیں ۔ اور ان کا سورج سے فاصلہ بہت زیادہ ہے ۔ ہمارا سورج 4.
اگر ان چٹانوں کو دیکھا جائے تو پہلے دو سیارے مرکری اور وینس سورج کے بہت قریب ہیں ۔ اس لیے ان کا ٹمپریچر بہت زیادہ ہے ۔لیکن زمین کے ساتھ ایک اور سیارے مریخ پر بھی پانی پایا جاتا ہے ۔ یہ جگہ انسان کے لیے بہت موزوں ہے ۔ جب کہ وینس اور مرکری میں پانی اسٹیم کی شکل میں پایا جاتا ہے ۔ لیکن سورج کا ایریا آہستہ آہستہ جب پھیلے گا تو گولڈن کور آہستہ آہستہ دور ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں زمین کا پانی بھی بھاپ بن جائے گا۔
جب یہ سارے سیارے معرض وجود میں آرہے تھے تو اس وقت ابتداء میں ہماری کائنات بہت زیادہ تباہی کا شکار تھی اور چیزیں ایک دوسرے سے ٹکر ا رہی تھیں اور اس کی وجہ ہمیں چاند سے معلوم ہوتی ہے ۔ جب اپالو مشن چاند پر گیا اور وہاں سے 380کلو گرام راک اٹھا کر لایا تو چاند کے کئی چٹانی حصے ایسے تھے جو زمین کی چٹانوں جیسے تھے ۔سائنسدانوں نے اس پہلو پر بہت زیادہ غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچے ۔سورج جب وجود میں آیا تھا تو ابتداء میں اس کے گرد بیس سیارے چکر لگا رہے تھے ان میں ایک سیارہ جو مریخ جتنا تھا اور اس کا نام ہے تھیا وہ زمین سے آکر ٹکرایا تو بہت تباہی ہوئی۔ چٹانیں آہستہ آہستہ جو زمین اور سیارے سے نکلی تھیں وہ زمین کے گرد چکر لگانا شروع ہو گئیں اور اکٹھی بھی ہوتی چلی گئیں ۔
اس طرح سے چاند معرض وجود میں آیا ۔ آج ہم ان ساری چٹانوں کو چاند کی شکل میں دیکھتے ہیں اور یہ نظریہ غلط ثابت ہوا کہ چاند ابتداء ہی سے وجود میں آگیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ چاند سورج بننے کے کچھ عرصہ بعد وجود میں آیا جب دوسیارے آپس میں ٹکرائے ۔ ایسٹرائیڈ بھی نظام شمسی میں پائے جاتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد دس ہزار اور لمبائی ایک میل ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایسٹرائیڈ ہمارے بہت قریب ہیں جب کہ یہ ہم سے دس لاکھ میل دور واقع ہیں ۔
نظام شمسی کی بیرونی سائیڈ پر جائیں گے تو وہاں پانی مائع شکل میں نہیں ملے گا بلکہ آئسی شکل میں ملے گا۔ ٹمپریچر یہاں پر بہت کم ہے ۔ یعنی مائنس 70سینٹی گریڈ ہے ۔ یہ وہ ٹمپریچر ہے جس میں گیسز ہائیڈروجن میتھین اور ایمونیا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ جب ان گیسز کا سائز زمین سے 10گنا بڑھ جاتا ہے تو اس کا ایک اثر ہوتا ہے جسے سونا بال اثر کہتے ہیں ۔ یہاں پر جیوپیٹر اور Saturnموجود ہیں جن کے سائز بھی بہت بڑے ہیں ۔ جیو پیٹر 90فیصد گیسز سے بنا ہوا ہے ۔ لیکن اس کا ہمیں فائدہ بھی بہت ہے کیونکہ یہ زمین کے لیے بڑے بھائی کا کردار ادا کرتا ہے ۔یعنی جب بھی زمین کی طرف کوئی ایسٹرائڈ اور کومٹ آنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ سب سے پہلے اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے اور اس طرح سے زمین اوراس کے باسی محفوظ رہتے ہیں ۔ چنانچہ جیوپیٹر سیارہ ہمیں باہر کے خطرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔
Saturn کے رنگز بہت زیادہ مشہور ہیں ۔ اگر Saturnذراسا بھی بڑا ہوتا یعنی جیوپیٹر کے سائز کا تو پھر یہ دونوں دیو مل کر باقی تمام سیاروں کو کھا جاتے اس لیے اس کا سائز جیو پیٹر سے چھوٹا ہونا نظام شمسی کی بقاء اور زمین پر انسانی حیات کا باعث ہے ۔ جب ہم سورج سے چالیس بلین میل فاصلے پر جاتے ہیں تو ہم کو ایک ایسی بیلٹ ملتی ہے جس کو کوپر بیلٹ کہا جاتا ہے ۔ اس میں بہت سے اسٹرائڈ موجود ہوتے ہیں اور یہ ہمارے سولر سسٹم کی بیرونی باؤنڈری بناتے ہیں اگر اس سے ہم آگے جائیں تو اوٹ کلاؤڈ ہے جس نے ہر طرف سے ہمارے نظام شمسی کو کور کیا ہوا ہے جس طرح مثال کے طور پر چھلکے نے کینو کو کور کیا ہوتا ہے ۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں ایک نوری سال کا سفر کرنا پڑے گا اور یہ ہے ہمارے نظام شمسی کی آخری حد ۔اس کے بعد ہمارے سولر سسٹم کا باقاعدہ اختتام ہو جاتا ہے ۔
کائنات کا آخری سچ جاننے کے لیے نہ جانے انسان کو کتنے نوری سال کا انتظار کرنا پڑے گا ۔ جب کہ تازہ ترین ریسرچ کے مطابق کائنات ایک نہیں ایک سے زیادہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نظام شمسی کی کی شکل میں بہت زیادہ جاتا ہے ہیں اور کے گرد کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔