Express News:
2026-06-02@20:46:48 GMT

نظام شمسی

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

نظام شمسی کے چار سیارے چٹانوں سے بنے ہوئے ہیں ۔ اُن کے سائز چھوٹے ہیں لیکن اُن کی سطح سخت ہے ۔ اگر نظام شمسی کی بیرونی سائیڈ پر چلے جائیں تو یہاں پر جو سیارے نظر آئیں گے وہ گیسز سے بنے ہوئے ہیں اور بڑے بڑے سائز کے ہیں ۔ سب کے گرد رنگز ہیں ۔

ان کے چاند بہت کم ہیں ۔ اور ان کا سورج سے فاصلہ بہت زیادہ ہے ۔ ہمارا سورج 4.

5 بلین سال پہلے جب پیدا ہوا تو اس وقت سورج کی حرارت اتنی زیادہ تھی کہ تمام چیزیں گیسوں کی شکل اختیار کر گئیں، سورج بنا تو اس کے گرد درجہ حرارت بہت زیادہ تھا ۔ میٹلز سب سے پہلے لیکوڈ فارم میں آئے اس طرح دوسرے سیاروں کی شکل میں بھی آنا شروع ہو گئے ۔ یہ سارے سیارے میٹلز اور ڈسٹ کی شکل میں وجود میں آئے ۔

اگر ان چٹانوں کو دیکھا جائے تو پہلے دو سیارے مرکری اور وینس سورج کے بہت قریب ہیں ۔ اس لیے ان کا ٹمپریچر بہت زیادہ ہے ۔لیکن زمین کے ساتھ ایک اور سیارے مریخ پر بھی پانی پایا جاتا ہے ۔ یہ جگہ انسان کے لیے بہت موزوں ہے ۔ جب کہ وینس اور مرکری میں پانی اسٹیم کی شکل میں پایا جاتا ہے ۔ لیکن سورج کا ایریا آہستہ آہستہ جب پھیلے گا تو گولڈن کور آہستہ آہستہ دور ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ ایک وقت میں زمین کا پانی بھی بھاپ بن جائے گا۔

جب یہ سارے سیارے معرض وجود میں آرہے تھے تو اس وقت ابتداء میں ہماری کائنات بہت زیادہ تباہی کا شکار تھی اور چیزیں ایک دوسرے سے ٹکر ا رہی تھیں اور اس کی وجہ ہمیں چاند سے معلوم ہوتی ہے ۔ جب اپالو مشن چاند پر گیا اور وہاں سے 380کلو گرام راک اٹھا کر لایا تو چاند کے کئی چٹانی حصے ایسے تھے جو زمین کی چٹانوں جیسے تھے ۔سائنسدانوں نے اس پہلو پر بہت زیادہ غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچے ۔سورج جب وجود میں آیا تھا تو ابتداء میں اس کے گرد بیس سیارے چکر لگا رہے تھے ان میں ایک سیارہ جو مریخ جتنا تھا اور اس کا نام ہے تھیا وہ زمین سے آکر ٹکرایا تو بہت تباہی ہوئی۔ چٹانیں آہستہ آہستہ جو زمین اور سیارے سے نکلی تھیں وہ زمین کے گرد چکر لگانا شروع ہو گئیں اور اکٹھی بھی ہوتی چلی گئیں ۔

اس طرح سے چاند معرض وجود میں آیا ۔ آج ہم ان ساری چٹانوں کو چاند کی شکل میں دیکھتے ہیں اور یہ نظریہ غلط ثابت ہوا کہ چاند ابتداء ہی سے وجود میں آگیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ چاند سورج بننے کے کچھ عرصہ بعد وجود میں آیا جب دوسیارے آپس میں ٹکرائے ۔ ایسٹرائیڈ بھی نظام شمسی میں پائے جاتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد دس ہزار اور لمبائی ایک میل ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایسٹرائیڈ ہمارے بہت قریب ہیں جب کہ یہ ہم سے دس لاکھ میل دور واقع ہیں ۔

نظام شمسی کی بیرونی سائیڈ پر جائیں گے تو وہاں پانی مائع شکل میں نہیں ملے گا بلکہ آئسی شکل میں ملے گا۔ ٹمپریچر یہاں پر بہت کم ہے ۔ یعنی مائنس 70سینٹی گریڈ ہے ۔ یہ وہ ٹمپریچر ہے جس میں گیسز ہائیڈروجن میتھین اور ایمونیا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ جب ان گیسز کا سائز زمین سے 10گنا بڑھ جاتا ہے تو اس کا ایک اثر ہوتا ہے جسے سونا بال اثر کہتے ہیں ۔ یہاں پر جیوپیٹر اور Saturnموجود ہیں جن کے سائز بھی بہت بڑے ہیں ۔ جیو پیٹر 90فیصد گیسز سے بنا ہوا ہے ۔ لیکن اس کا ہمیں فائدہ بھی بہت ہے کیونکہ یہ زمین کے لیے بڑے بھائی کا کردار ادا کرتا ہے ۔یعنی جب بھی زمین کی طرف کوئی ایسٹرائڈ اور کومٹ آنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ سب سے پہلے اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوجاتا ہے اور اس طرح سے زمین اوراس کے باسی محفوظ رہتے ہیں ۔ چنانچہ جیوپیٹر سیارہ ہمیں باہر کے خطرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔

Saturn کے رنگز بہت زیادہ مشہور ہیں ۔ اگر Saturnذراسا بھی بڑا ہوتا یعنی جیوپیٹر کے سائز کا تو پھر یہ دونوں دیو مل کر باقی تمام سیاروں کو کھا جاتے اس لیے اس کا سائز جیو پیٹر سے چھوٹا ہونا نظام شمسی کی بقاء اور زمین پر انسانی حیات کا باعث ہے ۔ جب ہم سورج سے چالیس بلین میل فاصلے پر جاتے ہیں تو ہم کو ایک ایسی بیلٹ ملتی ہے جس کو کوپر بیلٹ کہا جاتا ہے ۔ اس میں بہت سے اسٹرائڈ موجود ہوتے ہیں اور یہ ہمارے سولر سسٹم کی بیرونی باؤنڈری بناتے ہیں اگر اس سے ہم آگے جائیں تو اوٹ کلاؤڈ ہے جس نے ہر طرف سے ہمارے نظام شمسی کو کور کیا ہوا ہے جس طرح مثال کے طور پر چھلکے نے کینو کو کور کیا ہوتا ہے ۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں ایک نوری سال کا سفر کرنا پڑے گا اور یہ ہے ہمارے نظام شمسی کی آخری حد ۔اس کے بعد ہمارے سولر سسٹم کا باقاعدہ اختتام ہو جاتا ہے ۔

کائنات کا آخری سچ جاننے کے لیے نہ جانے انسان کو کتنے نوری سال کا انتظار کرنا پڑے گا ۔ جب کہ تازہ ترین ریسرچ کے مطابق کائنات ایک نہیں ایک سے زیادہ ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نظام شمسی کی کی شکل میں بہت زیادہ جاتا ہے ہیں اور کے گرد کے لیے

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی