Islam Times:
2026-07-24@01:14:26 GMT

حضرت ابو طالبؑ۔۔۔ دُعا اور دفاع کا حسین امتزاج

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

حضرت ابو طالبؑ۔۔۔ دُعا اور دفاع کا حسین امتزاج

اسلام ٹائمز: حضرت ابو طالبؑ نے کوئی سلطنت قائم نہیں کی، کوئی لشکر کشی نہیں کی، کوئی فرمان جاری نہیں کیا۔۔۔ اسکے باوجود انہوں نے اپنے غیر متزلزل ایمان کے ساتھ ایک ایسی دعوت کو زندہ رکھا کہ جس نے انسانی تہذیب و تمدّن کا رخ بدل دیا۔ حضرت ابو طالبؑ ہمیں یہ سبق دے کر گئے کہ دفاع کی سب سے مضبوط دیوار وہ ہوتی ہے، جس پر نام نہیں لکھا جاتا اور سب سے بڑی قربانی وہ ہوتی ہے، جسکا دعویٰ نہیں کیا جاتا۔ کبھی کبھی تاریخ کا سب سے فیصلہ کن کردار وہ ہوتا ہے، جو خود مرکز میں نہیں ہوتا، لیکن وہ مرکز کو گرنے نہیں دیتا۔ حضرت ابو طالبؑ نے ہمیں سکھایا کہ ختمِ نبوّت پر ایمان یہ ہے کہ ہر لمحے دُعا اور دفاع کے ساتھ رسولؐ کی ہمراہی کی جائے۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

 تبدیلی کے بغیر انقلاب کا تصوّر ممکن نہیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کہیں انقلاب آئے اور تبدیلی نہ آئے۔ تاریخ کے بڑے انقلابات ہمیشہ ہوم ورک یعنی خاموش کمروں، سماجی ذمہ داریوں اور معاشرتی توازن کی باریک تدبیروں میں پروان چڑھے ہیں۔ ساتویں صدی کا مکہ اسی نوع کا ایک انقلابی مرکز تھا۔ اگر اسے اُس عہد کا خطے کا سب سے حساس اور مؤثر مرکز کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ عرب کے تجارتی راستے، قبائلی اتحاد، مذہبی روایات اور معاشی مفادات سب اسی شہر میں ایک دوسرے سے گُندھے ہوئے تھے۔ ساتویں صدی کا شہرِ مکہ محض ریگزاروں میں گھرا ہوا ایک شہر نہ تھا، وہ عرب کے جغرافیے، تجارت، قبائلی سیاست اور مذہبی مرکزیت کا نقطۂ اتصال بھی تھا۔ یہاں قافلوں کی گرد بھی اٹھتی تھی اور بتکدوں کی گونج بھی سنائی دیتی تھی۔ یہ طاقت کی تمام مرئی و غیر مرئی رگوں کا سنگم تھا۔ یہ ایک ایسا مرکز تھا، جہاں سے ہونے والا کوئی ایک اعلان اطراف کے پورے نظام کو ہلا سکتا تھا۔

اسی منطقے میں ختمِ نبوّت کا علان ہوا۔ یہ اعلان کبھی خاموش کمروں میں اور کبھی مستضعف افراد کے صبر کی صورت میں، کبھی حضرت بلالؓ کی احد احد کی صدا بن کر اور کبھی حضرت عمّار یاسر ؓ کی سرگوشی بن کر گونجتا رہا۔ اُس زمانے میں ختمِ نبوت پر ایمان لانا ہماری طرح فقط کلمہ پڑھنا نہیں تھا۔ اُس وقت ختمِ نبوّت پر ایمان لانے کا مطلب دراصل اللہ کے آخری نبیؐ کی حرمت، بقا اور تحفظ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لینا تھا۔ تاریخ میں کہیں اگر ایسے ایمان کی عملی تفسیر تلاش کرنی ہو تو حضرت ابو طالبؑ ؑ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیجئے۔ ان کے ختمِ نبوّت پر ایمان لانے کی کیفیّت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اُس شہر کی فضا کو محسوس کیا جائے کہ جس کے دامن میں حضرت ابو طالبؑ نے نبی ؐ کیلئے دُعا اور دفاع کا حسین امتزاج قائم کیا۔

ایسے شہر میں عامُ الفیل سے پینتیس برس قبل ایک طفل پیدا ہوا، جسے تاریخ نے حضرت ابو طالبؑ کے نام سے محفوظ کیا۔ ان کے والد عبدالمطلبؑ قریش کے رئیس تھے۔ انہی کے وصال کے بعد جب محمدﷺ کی عمر آٹھ برس تھی تو اُن کی  کفالت کی ذمہ داری حضرت ابو طالبؑ کے سپرد ہوئی۔ یہ کفالت جہاں ایک خاندانی ذمہ داری وہیں یہ ایک الہیٰ امانت کی حفاظت بھی تھی۔ ایسی امانت جو آنے والے زمانوں کے لیے آخری نبوت کی صورت میں ظاہر ہونے والی تھی۔ جب حضرت محمدﷺ کو نبوت عطا ہوئی تو یہ طاقت کے توازن میں ایک گہری لرزش تھی۔ اس سے مکّے میں ایک نئی دعوت اُبھری۔ توحید کا نعرہ بلند ہوا اور اب اس پیغام کو اپنی تبلیغ و بقا کیلئے محض لوگوں کے ایمان لانے کی نہیں، بلکہ تحفظ کی ضرورت بھی تھی۔ ایسی فضا میں حضرت ابو طالبؑ نے اپنے بھتیجے کو اپنی اولاد سے بڑھ کر چاہا۔ سفر ہو یا حضر،  دونوں ساتھ  ساتھ رہے۔

بُصریٰ کے سفر میں راہب بحیرا کے سامنے حضرت ابو طالبؑ نے حضورؐ کو  اپنا بیٹا کہا۔یہ محبت فقط چچا اور بھتیجے کی محبت نہ تھی۔ پھر وہ لمحہ آیا، جب محمدﷺ کا منصبِ نبوّت اہلِ مکہ کیلئے چیلنج بن گیا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ رہی ہے اور اب ہدایت کی آخری کڑی ظاہر ہوچکی ہے۔ ختمِ نبوت کا تقاضا تھا کہ اس پیغام کو تحفظ ملے اور اس تحفظ کیلئے کوئی ڈھال درکار تھی۔ وہ ڈھال حضرت ابو طالبؑ ؑ بنے۔ انہوں نے طاقت کی مختلف اکائیوں قبائلی وقار، سماجی اثر، مذہبی مقام اور اخلاقی اعتبار کو اس مہارت سے ہم آہنگ رکھا کہ ایک نوزائیدہ تحریک کو سانس لینے کی مہلت مل گئی۔ اُس وقت اگر قریش کی مذکورہ بالا اکائیاں بکھر جاتیں تو پھر دشمن کئی سمتوں سے حملہ آور ہوسکتے تھے۔ حضرت ابو طالبؑ نے ایک طرف پیغمبرﷺ کا دفاع کیا اور دوسری طرف قریش کے داخلی اتحاد کو ٹوٹنے نہ دیا۔ یوں اختلاف کو تصادم میں بدلنے سے روکا۔ یہی وہ حکمتِ عملی تھی، جس نے خطرات کو محدود رکھا اور دشمنی کو چاروں طرف سے حملہ کرنے کی مہلت نہیں دی۔

قریش کی دھمکیاں، لالچ، دباؤ۔۔۔ سب سامنے آئے۔ کبھی کہا گیا کہ دعوت چھوڑ دو، کبھی متبادل پیش کیے گئے، کبھی قتل کی سازشیں ہوئیں۔ یہ سب اپنی جگہ جاری رہا، لیکن حضرت ابو طالبؑ نے قریش کے دباؤ کا قبائلی روایات سے مقابلہ کیا۔ جب مسلمانوں پر معاشی پابندیاں لگائی گئیں تو حضرت ابو طالبؑ نے شعبِ ابیطالب میں داخلی وسائل کو بروئے کار لا کر خود انحصاری کی مثال قائم کی۔ جب بھی شدت پسندی کا اندیشہ پیدا ہوا تو انہوں نے سفارتی نرمی اختیار کر لی۔ حضرت ابو طالبؑ کی مزاحمت و استقامت جامد نہ تھی۔ وہ حالات کے مطابق اپنی سفارت کاری کو جاری رکھتے تھے۔ کبھی رعب سے، کبھی دلیل سے اور کبھی خاموشی سے۔ انہوں نے بنو ہاشم کو نبی ؐ کے گرد ایک دفاعی دیوار کی شکل میں کھڑا کر دیا۔ ایسی دفاعی دیوار جسے گرانے کی قیمت سارے قبائل کو چکانی پڑتی۔

انہوں نے اپنی مدبرانہ سفارت کاری کے ذریعے بنو ہاشم کو جمع کرکے حضورؐ کے لئے ایک مضبوط اور غیر لچکدار دفاعی حصار تشکیل دے دیا۔ اس دوران مکے میں قبائلی توازن کو بھی برقرار رکھا، تاکہ دعوت کا عمل مسلسل جاری رہے۔ وقت آگے بڑھتا رہا اور نت نئے امتحانات سامنے آتے رہے۔ انہوں نے شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں فاقے برداشت کیے، لیکن امتحانات میں کبھی رسولﷺ کی حوصلہ افزائی و سرپرستی سے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ انہوں نے اِن تین سالوں کے دوران داخلی روابط اور عزم و ہمّت سے مسلمانوں کی جماعت کو قائم رکھا۔ انہوں نے اس بحران میں ایک بہترین قائد ہونے کا ثبوت دیا۔ آپ کی مدبرانہ قیادت کی بدولت بغیر کسی رسمی معاہدے یا تحریری دستور کے شعب ابیطالب کا محاصرہ ختم ہوا۔

قریش کی اندرونی تمام تر مشکلات کے باوجود حضرت ابو طالبؑ قریش کے سب سے بڑے سردار تھے۔ ان کی شخصیت ایک اخلاقی اتھارٹی تھی، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے مخالفین اپنی حدود میں رہنے پر مجبور رہے اور قریش کا غیض و غضب ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھ سکا۔ ان کی قیادت و حکمت کا مرکز ایک ہی تھا کہ رسولِ خداﷺ کا تحفظ ہر قیمت پر ہونا چاہیئے۔ چنانچہ انہوں نے قریش کے قدیم نظام کو یکدم منہدم کرنے کے بجائے اسی نظام کے اندر شمع نبوّت کے روش ہونے کی جگہ بنائی۔ ان کی ایک نمایاں خصوصیت بہترین سفارتکاری تھی۔ وہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتے، لیکن مخالفین کو کسی مشترکہ نتیجے پر نہ پہنچنے دیتے۔ قریش جانتے تھے کہ اگر حضرت ابو طالبؑ کو  راستے سے ہٹا دیا جائے تو پیغمبرﷺ تک پہنچنا آسان ہو جائے گا، لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ایسا کرنے سے سارا قبائلی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

مقامِ تعجب ہے کہ قریشِ مکّہ جس شخص کے خون کے پیاسے تھے، اُس کی موجودگی اُن کیلئے ناگزیر بن گئی تھی۔ جب بعثت کے دسویں سال میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے اور چند ہی دن بعد حضرت خدیجہ بنت خویلدؑ بھی دنیا سے چلی گئیں تو اس سال کو نبی ؐ کی طرف سے "عامُ الحزن" کہا گیا۔ ان کی رحلت نے واضح کر دیا کہ تحریکیں صرف نظریات کے سہارے آگے نہیں بڑھتیں، انہیں پس منظر میں موجود مدبر نگہبانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسلام اگر اپنی ابتدائی ساعتوں میں محفوظ رہا تو اس کے پیچھے کسی لشکر یا فوج کی محافظت نہ تھی، بلکہ ایک مردِ دانا کی خاموش بصیرت تھی۔ حضرت ابو طالبؑ نے قدیم دنیا کو توڑے بغیر اسی کے اندر ایک نئی دنیا کیلئے جگہ پیدا کی۔ وہ عبوری عہد کے معمار تھے۔ ایسے معمار جنہوں نے اپنے وقار، تدبر اور اخلاقی قوت سے ختمِ نبوّت کے چراغ کو آندھیوں سے بچائے رکھا۔

حضرت ابو طالبؑ نے کوئی سلطنت قائم نہیں کی، کوئی لشکر کشی نہیں کی، کوئی فرمان جاری نہیں کیا۔۔۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے غیر متزلزل ایمان کے ساتھ ایک ایسی دعوت کو زندہ رکھا کہ جس نے انسانی تہذیب و تمدّن کا رخ بدل دیا۔ حضرت ابو طالبؑ ہمیں یہ سبق دے کر گئے کہ دفاع کی سب سے مضبوط دیوار وہ ہوتی ہے، جس پر نام نہیں لکھا جاتا اور سب سے بڑی قربانی وہ ہوتی ہے، جس کا دعویٰ نہیں کیا جاتا۔ کبھی کبھی تاریخ کا سب سے فیصلہ کن کردار وہ ہوتا ہے، جو خود مرکز میں نہیں ہوتا، لیکن وہ مرکز کو گرنے نہیں دیتا۔ حضرت ابو طالبؑ نے ہمیں سکھایا کہ ختمِ نبوّت پر ایمان یہ ہے کہ ہر لمحے دُعا اور دفاع کے ساتھ رسولؐ کی ہمراہی کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نبو ت پر ایمان حضرت ابو طالب د عا اور دفاع وہ ہوتی ہے انہوں نے ا نہیں کیا قریش کے نے اپنے کے ساتھ نہیں کی میں ایک

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف