کمزور ٹیموں کیخلاف بریڈ مین مگر؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اگر میچ سے چند گھنٹے قبل تیز بارش ہو چکی اور آغاز کے بعد بھی امکان ہو تو آپ ٹاس جیت کر پہلے کیا کریں گے؟
اگر آپ کا کوئی بولر حریف ٹیم کے اعصاب پر سوار ہو تو آپ اسے جلد بولنگ دیں گے یا آدھی اننگز ختم ہونے کا انتظار کریں گے؟
اگر آپ کا اہم ترین فاسٹ بولر آؤٹ آف فارم ہو اور دوسرے بولر کو پہلے ہی اوور میں وکٹ مل جائے تو اہم پیسر کو دوسرا اوور دیں گے یا مومینٹم برقرار رکھنے کیلیے اسپنر کو لائیں گے؟
پہلے اوور میں اسٹار بولر نے زیادہ رنز دے دیے اب آخری اوور اسے دیں گے یا کسی اور کو گیند تھمائیں گے؟
آپ اپنے سب سے بڑے بیٹر کی خامیاں میڈیا کے سامنے بیان کریں گے یا ڈریسنگ روم میں بات ہو گی؟
ایک سینئر بیٹر جس کا بڑا نام ہے آپ اسے مسلسل باہر بٹھائیں گے یا کھلائیں گے؟
اگر آپ میں تھوڑی سی بھی کرکٹ کی سمجھ ہے تو ان سوالات کے جواب مشکل نہیں لگیں گے، ظاہر ہے آپ کو اس کے پیسے بھی نہیں مل رہے لیکن اگر کوئی کروڑوں روپے معاوضہ لینے کے باوجود الٹ فیصلے کررہا ہے تو اس کو کیا کہیں؟
بدقسمتی سے ورلڈکپ میں اب تک ایسا ہی ہو رہا ہے، پاکستانی ٹیم مینجمنٹ نے ایسے عجیب وغریب فیصلے کیے جس پر لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں، شاید وہ خود کو عقل کل اور دوسروں کو اپنے سامنے کچھ نہیں سمجھتے۔
اگر ہم دوسرے راؤنڈ میں پہنچے تو اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں، آئی سی سی کو دعائیں دیں، چونکہ پاکستان اور انڈیا میں میچ دیکھنے والے کروڑوں شائقین ہیں اس لیے مالی نقصان سے بچنے کیلیے دونوں ٹیموں کو ایسے گروپس میں رکھا جاتا ہے جہاں کمزور حریفوں کی موجودگی میں باآسانی دوسرے مرحلے میں پہنچ جائیں۔
ماضی میں جب دونوں سائیڈز آغاز میں ہی باہر ہو گئی تھیں تو کونسل کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا تھا، گوکہ انڈین ٹیم اب بہت آگے نکل گئی لیکن گرین شرٹس کے گروپ میں اگر آپ یوگینڈا، نیپال اور یو اے ای کو بھی رکھ دیں تب بھی کوئی جیت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
امریکا کا ورلڈکپ یاد کریں جہاں ہم نوآموز میزبان ٹیم سے ہی ہار گئے تھے، اس بار تو نیدرلینڈز سے پہلے ہی مقابلے میں تقریبا شکست ہو ہی گئی تھی وہ تو فہیم اشرف نے غیرمعمولی بیٹنگ کر کے لاج رکھ لی،امریکا اور پھر نمیبیا کو ہرا کر ٹیم سپر8 میں تو پہنچ گئی۔
لیکن انڈیا سے ناکامی بھلائی نہیں جا سکتی، اب نیوزی لینڈ سے مقابلہ بارش کی نذر ہو گیا تو سیمی فائنل میں رسائی کا سفر بیحد دشوار بن چکا۔
انگلینڈ نے گوکہ بہترین بولنگ کی بدولت سری لنکا کو تو زیر کر لیا لیکن اس کی بیٹنگ لائن فلاپ ہے، یہاں بھی قسمت ہمارا ساتھ دے سکتی ہے، انہی دونوں ٹیموں کو اگلے میچز میں ہرا دیا تو فائنل فور میں جگہ مل جائے گی۔
البتہ پھر اگلے دونوں مقابلے مضبوط ترین حریفوں سے ہوں گے، اگر ہم اب تک کی کارکردگی کی جائزہ لیں تو اسے کسی صورت بہترین قرار نہیں دیا جا سکتا ، یہاں تک لانے میں بھی اہم ترین کردار صاحبزادہ فرحان کا ہے جنھوں نے نمیبیا کیخلاف سنچری بھی بنائی،اس سے پہلے وہ 50،60 رنز کو ہی کافی سمجھ کر آؤٹ ہو جاتے تھے لیکن اب اننگز کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں۔
دوسرے اوپنر صائم ایوب کو ہم نے بہت جلدی آسمان پر چڑھا دیا،بظاہر وہ نمبر ون آل راؤنڈر ہیں لیکن کارکردگی کسی صورت اس کی عکاسی نہیں کرتی، ان کا اصل کام بیٹنگ ہے لیکن5 میچز میں 15 کی اوسط سے 63 رنز ہی بنا سکے ہیں۔
آج کل کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں تو کسی ٹیل اینڈر کے اعدادوشمار بھی اس سے بہتر ہوں گے،جتنے مواقع صائم کو ملے شاید ہی چند برسوں میں کسی اور کو ملے ہوں لیکن وہ پھر بھی اپنی کارکردگی میں تسلسل نہ لا سکے اور ’’نولک شاٹ‘‘ کے سحر میں ہی پھنسے رہے۔
پاکستان میں کپتان بننے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ من مانیوں کا موقع مل جاتا ہے، ٹی ٹوئنٹی میں نمبر 3 اہم ترین پوزیشن ہوتی ہے، سلمان علی آغا نے اس پر قبضہ کر لیا لیکن ورلڈکپ کے 5 میچز میں 13 کی اوسط سے55 رنز ہی بنا سکے ہیں، بطور کپتان بھی ان کے فیصلے درست نہیں لگ رہے۔
بابر اعظم کو ورلڈکپ اسکواڈ میں شامل کرنے کی ہم سب نے حمایت کی تھی لیکن وہ مایوس کر رہے ہیں، اب تک صرف 66 رنز ہی ان کے نام پر درج ہیں.
چوتھے نمبر پر کھیلنے سے وہ مطمئن نہیں لگتے لیکن آغاز میں بیٹنگ کرانا پاور پلے کے اوورزضائع کرنے کا سبب بنے گا، اگر بقیہ میچز میں بابر کچھ نہ کر سکے تو انھیں اپنے مستقبل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کر لینا چاہیے۔
عثمان خان اس ٹیم کی سب سے کمزور کڑی ہیں، انڈیا کیخلاف جب میچ ہاتھ سے نکل گیا تو انھوں نے تھوڑے رنز بنا لیے لیکن مجموعی طور پر مسلسل ناکام ہیں۔
انھوں نے یو اے ای کی کرکٹ کو چھوڑنے کا جو ’’احسان ‘‘ کیا اب تک اس کا پھل کھا رہے ہیں، کئی بیٹرز کمزور ٹیموں کے خلاف تو بریڈمین لگتے ہیں لیکن بڑے حریفوں کے سامنے کچھ نہیں کر پاتے۔
شاداب جیسے پلیئرز پر سابق کرکٹرز تنقید کریں تو وہ برا مان کر جواب دے دیتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس تو بیٹ اور بال موجود ہے، زبان کے بجائے اس سے اچھا پرفارم کر کے جواب دیں، آپ سوچیں کہ اس بیٹنگ لائن کے ساتھ ہم انڈیا کو ہرانے کا خواب دیکھ رہے تھے؟
فخر زمان کو ساتھ لے کر تو گئے ہیں مگر کھلایا نہیں جا رہا، بولنگ میں ہمارے اہم ترین پیسر شاہین آفریدی آؤٹ آف فارم ہیں، فہیم اشرف پر تو ٹیم مینجمنٹ کو ہی بھروسہ نہیں لہذا بہت کم گیند تھمائی جاتی ہے، محمد نواز اور ابرار احمد کی اسپن بولنگ کا جادو بھی نہیں چل پا رہا۔
البتہ عثمان طارق کے حوالے سے جتنی ہائپ بنی تھی وہ ویسا پرفارم کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں، اگر انڈیا کیخلاف ان کا درست وقت پراستعمال کیا جاتا تو شاید وکٹیں اڑا دیتے، سلمان کی قیادت اور مائیک ہیسن کی کوچنگ پر سوال اٹھنے لگے ہیں، دونوں نے کئی بنیادی غلطیاں کی ہیں۔
اب وقت کم ہے، انگلینڈ اور سری لنکا کو کسی صورت آسان نہیں سمجھا جا سکتا، پیش قدمی جاری رہی تو آگے مزید مضبوط حریف ملیں گے، لہذا ٹیم کو کمر کس لینی چاہیے، جس طرح کھلاڑی پی ایس ایل کی نیلامی میں اپنے ریٹ کی فکرمیں ہلکان ہوئے جا رہے تھے کاش کارکردگی کے حوالے سے بھی کچھ فکر کر لیں۔
ابھی تک تو ٹیم نے مایوس ہی کیا ، اب دعا کی جا سکتی ہے کہ بقیہ میچز میں کچھ بہتر پرفارمنس سامنے آئے ورنہ پی ایس ایل سے ہی دل بہلا لیں گے جس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اس میں پاکستانی ٹیم نہیں ہارتی لہذا کوئی ٹینشن نہیں ہوتی۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اہم ترین میچز میں رہے ہیں اگر ا پ لیکن ا
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین