آریسر کا لاپتا شارخ سولنگی کی بازیابی کیلیے احتجاجی دھرنا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد کے ہٹڑی بائی پاس پر جبری طور پر لاپتہ کیے گئے شاہ رخ سولنگی کے ورثا اور جئے سندھ قومی محاذ (آریسر) کے مرکزی جنرل سیکریٹری عبدالفتاح چنا کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کر کے دھرنا دیا گیا۔احتجاجی دھرنے میں شاہ رخ سولنگی کی والدہ ریشمان، والد سلیم سولنگی، دادا عزیز سولنگی اور جسقم آریسر کے کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ورثا اور رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلسل تین ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن شاہ رخ سولنگی کو ظاہر نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث ہم دھرنا دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ دھرنا مسلسل چار گھنٹے جاری رہنے کے باعث پنجاب سے آنے والی گاڑیاں رک گئیں۔بعد ازاں ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ نے ورثا کو یقین دہانی کرائی کہ تین دن کے اندر نوجوان کو ظاہر کر کے ان کے حوالے کیا جائے گا اور روڈ خالی کیا جائے۔ جس پر ورثا نے دھرنا ختم کرتے ہوئے کہا کہ اگر تین دن بعد بھی نوجوان شاہ رخ سولنگی کو آزاد نہ کیا گیا تو دوبارہ دھرنا دیا جائے گا۔ ادھر احتجاج کی وجہ سے قومی شاہراہ پر پنجاب سے کراچی آنے اور اور کراچی سے پنجاب اور دیگر شہروں کو جانے والے ٹریفک معطل ہوگئی، ٹریفک میں موجود روزہ داروں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، پولیس اور انتظامیہ نے مشتعل افراد سے مذاکرات بھی کئے لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شاہ رخ سولنگی
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔