سانحہ ڈوڈی پورہ کے20سال مکمل‘کشمیری شہدا کے اہلخانہ انصاف کے منتظر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-01-8
سری نگر (آن لائن) سانحہ ڈوڈی پورہ کو 20 سال بیت گئے، کشمیری شہدا کے اہلخانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ بھارتی قابض فوج کی جارحیت، ظلم اور بے گناہ کشمیریوں کے خون سے رقم ہے۔ بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں حقِ خود ارادیت کے لیے لاکھوں کشمیری اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔ 22 فروری 2006ء ایک ایسے المناک دن کی یاد دلاتا ہے جب ڈوڈی پورہ کرکٹ گراونڈ کو خون میں نہلادیا گیا۔ بھارتی قابض فوج نے کرکٹ کھیلتے معصوم نوجوانوں پر اندھا دھند فائرنگ کرکے 4 کو شہید اور دیگر کو شدید زخمی کر دیا۔ اس انسانیت سوز واقعے پر مقامی افراد نے سڑکوں پر آکر بھارتی فوج کی دہشت گردی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔اس واقعے پر بھارتی اور عالمی اداروں کی خاموشی شرمناک ہے۔ پاکستانی قوم ہر سال اس روز اپنے کشمیری بھائیوں کے غم میں شریک ہو کر بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔