بھارت کا ایک اور لڑاکا طیارہ’’ تیجس ‘‘گرکر تباہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-01-21
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی طیارے گرنے اور دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا سلسلہ تاحال ختم نہیں ہوا، بھارتی فضائیہ کا ایک اور لڑاکا طیارہ تیجس معمول کی تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، جس میں پائلٹ محفوظ رہا، بھارتی حکام نے حادثے کی تصدیق کی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق تربیتی مشق کے دوران تیجس طیارے کو اچانک تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا جس کے سبب وہ فضا میں بے قابو ہوگیا اور زمین پر گرگیا جس کے بعد طیارے میں آگ لگ گئی۔ بھارتی فضائیہ کے حکام نے کہا ہے کہ حادثے میں پائلٹ محفوظ رہا جس نے طیارہ گرنے سے قبل بحفاظت خود کو ’’ایجیکٹ‘‘کیا، واقعے کی تحقیقات اور حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے کورٹ آف انکوائری قائم کر دی گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق تکنیکی خرابی کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم حکام نے زور دیا ہے کہ حتمی نتائج تفصیلی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اخذ کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔