پنجاب میں سب سے زیادہ غربت‘ تاثر دودھ شہد کی نہروں کا دیا جا رہا ہے‘ حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-01-23
لاہور( نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب میں سب سے زیادہ غربت، تاثر دیا جاتا ہے کہ صوبہ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ جمہوریت کے دعوے دار خاندان سیاسی پارٹیاں چلاتے ہیں، مسلط حکمران مقامی حکومتوں کو بااختیار نہیں بناتے، انہیں عوام کی طاقت سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں افطار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا اہتمام جماعت اسلامی لاہور کے رہنما ملک شاہد اسلم نے کیا تھا۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ اور امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ پنجاب میں ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جبکہ حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے۔ وزیراعلیٰ نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا ہے، اشتہارت میں کارکردگی کے دعوے کیے جاتے ہیں، زمینی حقائق کا ان دعوؤں سے کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب سمیت پورے ملک میں ہر شعبے کے حالات خراب ہیں۔ توانائی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمرانوں نے ایک سال میں آئی پی پیز کے مالکان دو ہزار ارب روپے دیے، پانچ سو ارب سے پورے ملک میں تعلیم مفت فراہم کی جاسکتی ہے، فارم سنتالیس کے حکمران غیر مقبول بھی ہیں اور انہیں عوام کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ آئی پی پیز کو عوام اس بجلی کے بھی پیسے ادا کر رہے ہیں جو بنتی ہی نہیں، یہ ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عید کے بعد عوام کے حقوق کی تحریک میں مزید تیزی لائے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں ہمیں خدا کا خوف رکھنا چاہیے اور رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کا عہد کر کے قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنانا ہوگا تاکہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں حقیقی تبدیلی آسکے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ صبح شام اللہ کے احکامات توڑتے ہیں مگر دنیا کے سامنے مذہبی بن کر رہتے ہیں، جبکہ دین کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی عملی زندگی میں بھی اللہ کے احکامات کی پابندی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہِ رمضان میں قرآن پاک کے ساتھ جڑ کر زندگی کو بدلا جا سکتا ہے اور پاکستان کی بنیاد ہی اس وعدے پر رکھی گئی تھی کہ یہاں قرآن کا نظام نافذ ہوگا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ قرآن کے نظام کا مطلب عدل و انصاف ہے، جس کے نفاذ سے کوئی بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہیں رہے گا اور کسی کا حق نہیں مارا جا سکے گا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اسلامی نظام کا تقاضا ہے کہ تمام شہریوں کو یکساں مواقع فراہم ہوں اور ظلم کے نظام کو بدلنے کے لیے منظم جدوجہد کی جائے، کیونکہ چند سڑکیں بنانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ظلم کا نظام بدلنے سے ہی حقیقی تبدیلی آتی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے زور دیا کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ اسے عملی زندگی میں نافذ کرنا ہی دین کی اصل خدمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں نظریے کی بنیاد پر چلتی ہیں، شخصیات کے گرد گھومنے سے نہیں، اور پاکستان میں حالات بدلنے کے لیے حقیقی اور مخلص قیادت کی ضرورت ہے۔
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن ملک شاہد اسلم کی جانب سے دیئے گئے افطار ڈنر سے خطاب کررہے ہیں‘لیاقت بلوچ‘ ضیاالدین انصاری ، عبدالرشیدودیگر بھی موجود ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے کہا امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر