بے امنی،ظلم کیخلاف ’’حق دوبلوچستان مہم‘‘مزیدتیز کرینگے، مولانا ہدایت الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-01-14
کوئٹہ (آن لائن) امیرجماعت اسلامی بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حقوق کے حصول، بارڈرزکھولنے،روزگار،لاپتا افرادکی بازیابی، تعلیم، امن،ترقی کیلیے اوربدامنی،ظلم وجبر، لاقانونیت، طاقت کے استعمال کے خلاف ’’حق دوبلوچستان مہم‘ کوتیز ومزیدمنظم کریںگے۔ الخدمت فانڈیشن کی سرگرمیوں،جماعت اسلامی کے دعوتی تنظیمی، پارلیمانی شعبوں کومزیدفعال کیاجائیگا۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹریٹ کوئٹہ میں صوبائی ذمہ داران ماہانہ تنظیمی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سابقہ کارروائی،فیصلوں پرعمل درآمد،آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے مشاورت وفیصلے کیے گئے۔اجلاس میں اب تک کی جماعت اسلامی، الخدمت فاونڈیشن،اداروں ،بنوقابل کی مجموعی تنظیمی رپورٹ صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضی خان کاکڑ،عبدالمجیدسربازی،طیب فرید نے پیش کیاجبکہ صوبائی نائب امرا نے اپنے ذاتی و زون کی رپورٹ پیش کیے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ذمہ داران نے کہاکہ بلوچستان بدامنی اور شورش کاشکارہرطرف خوف ودہشت،سیکورٹی ادارے وحکومت ناکام ہیں۔دہشت گردی، لاپتہ افراد، اور ریاستی و عوامی عدم اعتمادہے۔ان مسائل کے حل کیلئے وفاق وصوبے کی سطح پرسنجیدگی سیسیاسی مکالمہ، مصالحتی عمل، قانون کی بالادستی،اور مقامی لوگوں کے روزگار،امن،بارڈرزکی تجارت کھولنے کیلئے عملی وفوری اقدامات اٹھانے چاہیے۔بلوچستان وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود مقامی آبادی روزگار،تعلیم اورعلاج کی سہولت سے محروم ہیں۔ معدنیات اور سی پیک جیسے منصوبوں میں مقامی لوگوں کو روزگار اور منافع میں حصہ دیاجائے ثمرات مقامی وبلوچستان کے عوام کودیے جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔