فلوریڈا میں ٹرمپ کی رہائشگاہ میں داخلے کی کوشش کرنیوالے شخص کو ہلاک کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-01-24
فلوریڈا (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سیکرٹ سروس نے ریاست فلوریڈا میں امریکی صدر ٹرمپ کی ذاتی رہائش گاہ مار اے لاگو میں غیر قانونی طور پر داخلے کی کوشش کرنے والے شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص شاٹ گن اور ایک فیول کین اٹھائے ہوئے تھا۔ پام بیچ کاؤنٹی کے شیرف رِک بریڈشا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 2 سیکرٹ سروس اہلکاروں اور ایک ڈپٹی شیرف نے مشتبہ شخص کو روکا اور اسے ہتھیار اور فیول کین زمین پر رکھنے کا حکم دیا۔ شیرف کے مطابق اس شخص نے پیٹرول کا کین تو نیچے رکھ دیا تاہم شاٹ گن کو فائرنگ کی پوزیشن میں اٹھا لیا، جس پر اہلکاروں نے فائرنگ کر دی، فائرنگ کے نتیجے میں مشتبہ شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ کسی اہلکار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ اس وقت واشنگٹن میں موجود تھے اور واقعے کے وقت ریزورٹ میں نہیں تھے۔ حکام نے واقعے کے محرکات کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات فراہم نہیں کیں، ایف بی آئی نے تحقیقات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔