Jasarat News:
2026-07-23@23:32:50 GMT

بے مسجد رمضان

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260223-03-4
غزہ میں کھنڈرات کے درمیان خیموں کے اندر رہتے ہوئے فلسطینیوں کا یہ تیسرا رمضان ہے یہ ایک ایسا رمضان بھی ہے جس میں کوئی مسجد سلامت موجود نہیں ساری مساجد تباہ ہو چکی ہیں سارے گھر تباہ جو چکے ہیں اجتماعی عبادت کا وہ طریقہ جو مسلمانوں میں رائج ہے اس کی کوئی صورت مشکل سے ہی کہیں نظر آتی ہے کیونکہ کوئی مسجد سلامت نہیں پھر بھی کھنڈرات اور بہت ساری جگہوں پہ نماز باجماعت اور تراویح ادا کی جا رہی ہے۔ غزہ کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ غزہ میں رمضان کی آمد اور اس کی سرگرمیاں ویسی نہیں جیسی کسی وقت ہوا کرتی تھیں، پہلے رمضان آتے ہی غزہ زندگی کی چہل پہل سے بھر جاتا تھا لوگ آپس میں ملاقات کرتے ایک دوسرے کی خیر خبر دیتے ہیں گھر اور مساجد کو سجاتے لیکن اب نہ گھر ہیں نہ گھر والے خیموں کی زندگی ہے رشتہ دار بھی بکھر چکے ہیں اور ان کے ساتھ مکمل رابطہ ممکن نہیں ہے۔ آج غزہ کے بچے ایسے رمضان گزار رہے ہیں جس میں امن و سکون نہیں خوف اور ناامیدی ہے رمضان اطمینان اور ذہنی سکون کا نام ہے لیکن اہل غزہ آج حد درجہ پریشانی، اور بے سکونی میں ہیں۔ پہلے کے رمضان یاد کرتے ہوئے غزہ کے لوگ بتاتے ہیں کہ ہم ابھی دو سال پہلے تک بھی میٹھائیوں کی تیاری اور مساجد کی سجاوٹ کیا کرتے تھے تاکہ نمازیوں کے استقبال کے لیے تیار کیا جائے لیکن آج نہ کوئی مسجد بچی ہے نہ محلہ بچا ہے اور نہ ہی گھر اور نہ ہی خوشی کا کوئی نشان؛ آج ہم نے اپنوں کو کھو دیا ہے۔

اہل غزہ سیز فائر کے باوجود اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے روز شہید ہو رہے ہیں اسرائیلی گولا بارود کے ذریعے شہر کے محلوں کو نشانہ بنا رہے ہیں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اُڑا رہے ہیں، یونس اور رفع کے شہروں پر جنگی طیارے نچلی پرواز کے دوران فضائی حملے کر رہے ہیں اور توپ خانوں سے بھاری مشین گن سے فائرنگ کر رہے ہیں۔ غزہ میں سیز فائر کہ نفاذ کے بعد بھی روزانہ کی بنیادوں پر اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری ہیں ہزاروں خاندان خوراک اور بنیادی ضرورتوں کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ نے مہینوں سے علاقے میں قحط پھیلنے کا اعلان کیا ہے۔

سیز فائر معاہدے کے بعد سے قابض افواج نے اپنی متواتر خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ساڑھے چھے سو فلسطینیوں کو شہید کیا ہے جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں یہ سیز فائر کے بعد ہونے والے اعداد و شمار ہیں جبکہ سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس نسل کشی کی جنگ میں قابض فوج نے اب تک 72 ہزار سے زائد شہریوں کو شہید اور ایک لاکھ 72 ہزار کو زخمی کر چکے ہیں جبکہ 8 ہزار سے زائد لاپتا ہیں شہری انفرا اسٹرکچر 90 فی صد تک مکمل تباہ ہو چکا ہے۔ رمضان کے پہلے ہی روز سے مسجد اقصیٰ پر صہیونی افواج اور غاضب آبادگاروں کے دھاوے جاری ہیں بلکہ ان میں غیر معمولی تیزی آئی ہے ایک دن میں دو دفعہ آبادکار فوج کے ساتھ بیت المقدس پر دھاوے مارتے ہیں اور بیحرمتی کرتے ہیں۔

قابض اسرائیلی حکومت بیت المقدس اور اس کے گرد سیکورٹی کے نام پر مزید سخت حصار قائم کرتے ہیں مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی عائد کر دیتے ہیں یہ سلسلہ صبح اور شام دو دفعہ ہوتا ہے، یہ 2003 سے جاری ہے اس سال اس میں مزید اضافہ کیا گیا ہے اسرائیلی دفتر کے مطابق مسجد اقصیٰ میں صرف 55 سال سے زائد عمر کے مردوں 50 سال سے زیادہ عمر کی عورتوں اور 12 سال تک کے بچوں کو داخلے کی اجازت دی جاے گی۔ ان حالات میں حماس کی طرف سے ماہ صیام کی آمد پر امت مسلمہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپیل کی گئی ہے کہ ماہ مبارک میں راتوں کو سماعت استقامت اور پہرہ داری اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے موسم کے طور پر منایا جائے اس ماہ کو غزہ کی پٹی مغربی کنارے اور مسجد اقصیٰ کے فلسطینیوں کی بھرپور حمایت و نصرت کے لیے وقف کیا جائے۔ یقینا ہمیں اس مبارک مہینے کو غزہ کے استقامت کے پیکر فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی رحم دلی اور باہمی تعاون اور ہمدردی کو دلوں میں راسخ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ ان کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے ان مدد و استعانت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے۔

غزالہ عزیز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیز فائر رہے ہیں غزہ کے

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی