Jasarat News:
2026-06-03@03:40:12 GMT

بے مسجد رمضان

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260223-03-4
غزہ میں کھنڈرات کے درمیان خیموں کے اندر رہتے ہوئے فلسطینیوں کا یہ تیسرا رمضان ہے یہ ایک ایسا رمضان بھی ہے جس میں کوئی مسجد سلامت موجود نہیں ساری مساجد تباہ ہو چکی ہیں سارے گھر تباہ جو چکے ہیں اجتماعی عبادت کا وہ طریقہ جو مسلمانوں میں رائج ہے اس کی کوئی صورت مشکل سے ہی کہیں نظر آتی ہے کیونکہ کوئی مسجد سلامت نہیں پھر بھی کھنڈرات اور بہت ساری جگہوں پہ نماز باجماعت اور تراویح ادا کی جا رہی ہے۔ غزہ کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ غزہ میں رمضان کی آمد اور اس کی سرگرمیاں ویسی نہیں جیسی کسی وقت ہوا کرتی تھیں، پہلے رمضان آتے ہی غزہ زندگی کی چہل پہل سے بھر جاتا تھا لوگ آپس میں ملاقات کرتے ایک دوسرے کی خیر خبر دیتے ہیں گھر اور مساجد کو سجاتے لیکن اب نہ گھر ہیں نہ گھر والے خیموں کی زندگی ہے رشتہ دار بھی بکھر چکے ہیں اور ان کے ساتھ مکمل رابطہ ممکن نہیں ہے۔ آج غزہ کے بچے ایسے رمضان گزار رہے ہیں جس میں امن و سکون نہیں خوف اور ناامیدی ہے رمضان اطمینان اور ذہنی سکون کا نام ہے لیکن اہل غزہ آج حد درجہ پریشانی، اور بے سکونی میں ہیں۔ پہلے کے رمضان یاد کرتے ہوئے غزہ کے لوگ بتاتے ہیں کہ ہم ابھی دو سال پہلے تک بھی میٹھائیوں کی تیاری اور مساجد کی سجاوٹ کیا کرتے تھے تاکہ نمازیوں کے استقبال کے لیے تیار کیا جائے لیکن آج نہ کوئی مسجد بچی ہے نہ محلہ بچا ہے اور نہ ہی گھر اور نہ ہی خوشی کا کوئی نشان؛ آج ہم نے اپنوں کو کھو دیا ہے۔

اہل غزہ سیز فائر کے باوجود اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے روز شہید ہو رہے ہیں اسرائیلی گولا بارود کے ذریعے شہر کے محلوں کو نشانہ بنا رہے ہیں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اُڑا رہے ہیں، یونس اور رفع کے شہروں پر جنگی طیارے نچلی پرواز کے دوران فضائی حملے کر رہے ہیں اور توپ خانوں سے بھاری مشین گن سے فائرنگ کر رہے ہیں۔ غزہ میں سیز فائر کہ نفاذ کے بعد بھی روزانہ کی بنیادوں پر اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری ہیں ہزاروں خاندان خوراک اور بنیادی ضرورتوں کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ نے مہینوں سے علاقے میں قحط پھیلنے کا اعلان کیا ہے۔

سیز فائر معاہدے کے بعد سے قابض افواج نے اپنی متواتر خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ساڑھے چھے سو فلسطینیوں کو شہید کیا ہے جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں یہ سیز فائر کے بعد ہونے والے اعداد و شمار ہیں جبکہ سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس نسل کشی کی جنگ میں قابض فوج نے اب تک 72 ہزار سے زائد شہریوں کو شہید اور ایک لاکھ 72 ہزار کو زخمی کر چکے ہیں جبکہ 8 ہزار سے زائد لاپتا ہیں شہری انفرا اسٹرکچر 90 فی صد تک مکمل تباہ ہو چکا ہے۔ رمضان کے پہلے ہی روز سے مسجد اقصیٰ پر صہیونی افواج اور غاضب آبادگاروں کے دھاوے جاری ہیں بلکہ ان میں غیر معمولی تیزی آئی ہے ایک دن میں دو دفعہ آبادکار فوج کے ساتھ بیت المقدس پر دھاوے مارتے ہیں اور بیحرمتی کرتے ہیں۔

قابض اسرائیلی حکومت بیت المقدس اور اس کے گرد سیکورٹی کے نام پر مزید سخت حصار قائم کرتے ہیں مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی عائد کر دیتے ہیں یہ سلسلہ صبح اور شام دو دفعہ ہوتا ہے، یہ 2003 سے جاری ہے اس سال اس میں مزید اضافہ کیا گیا ہے اسرائیلی دفتر کے مطابق مسجد اقصیٰ میں صرف 55 سال سے زائد عمر کے مردوں 50 سال سے زیادہ عمر کی عورتوں اور 12 سال تک کے بچوں کو داخلے کی اجازت دی جاے گی۔ ان حالات میں حماس کی طرف سے ماہ صیام کی آمد پر امت مسلمہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپیل کی گئی ہے کہ ماہ مبارک میں راتوں کو سماعت استقامت اور پہرہ داری اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے موسم کے طور پر منایا جائے اس ماہ کو غزہ کی پٹی مغربی کنارے اور مسجد اقصیٰ کے فلسطینیوں کی بھرپور حمایت و نصرت کے لیے وقف کیا جائے۔ یقینا ہمیں اس مبارک مہینے کو غزہ کے استقامت کے پیکر فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی رحم دلی اور باہمی تعاون اور ہمدردی کو دلوں میں راسخ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ ان کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے ان مدد و استعانت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے۔

غزالہ عزیز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیز فائر رہے ہیں غزہ کے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید